اسلام آباد ( مشرف کاظمی سے )اسے نا اہلی کہا جائے یا مجرمانہ غفلت کہ ہمارے پاک وطن کا قیمتی سرمایہ پانی تیزی سے ضائع ہو رہا ہے .

پاکستان آبی وسائل کی کمی کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 29 ارب ڈالر کا پانی سمندر میں پھینک رہا ہے۔یہ انکشاف ارسا کے ممبر پنجاب راؤ ارشاد علی خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے سامنے کیا۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس میر محمد یوسف بادینی کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا جس میں ارسا ممبر پنجاب راؤ ارشاد علی خان نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر راؤ ارشاد علی خان نے سینیٹ کی قائمی کمیٹی کو بتایا کہ آبی ذخائر کی کمی کے باعث پاکستان سالانہ اوسطاً 29 ارب ڈالر کا پانی سمندر میں پھینک رہا ہے۔ارسا کے ممبر پنجاب نے بتایا کہ ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر نہ ہونے سے 1976 سے سالانہ اوسطاً 29 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کے اقتصادی ثمرات ایک ارب ڈالر کے برابر ہیں۔ارساحکام نے بتایا کہ ٹیلی میٹری سسٹم لگانے کیلئے کسی کمپنی کو شارٹ لسٹ کر رہے ہیں، سیکریٹری آبی وسائل نے بتایا کہ ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب دو سال میں ممکن ہو سکے گی۔کمیٹی نے ملک میں آبی وسائل کی تعمیر اور صوبوں کے درمیان پانی چوری کے الزامات کی روک تھام کے لیے ڈیموں اور بیراجز پر ٹیلی میٹری سسٹم لگانے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کی توسیع کے منصوبے کی لاگت 15 کروڑ روپے سے ڈیڑھ ارب روپے تک پہنچنے پر محکمہ آبپاشی سے تفصیلات طلب کرلیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ ٹی وی شوز کو زیادہ وقت دیتے ہیں، آجاتے تو ان کے علم میں اضافہ ہو جاتا۔