اسلام آباد (وی او پی) قائد ملتِ جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اعلان کے مطابق عشرہ اسیرانِ کربلاکے موقع پر اسلام آباد میں مجالس عزا ہوئیں اور ماتمی جلوس برآمد کیے گئے جن سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور ذاکرین و واعظین نے اسیران کربلا مخدرات ِعصمت و طہارت کی عظیم قربانیوں کو سپاسِ عقیدت پیش

کیا اوراسیران کربلا کے خطبات کو دنیائے مظلومیت کیلئے روشن مینار قراردیا۔ انجمن دختران اسلام ، ام البنین ڈبلیوایف،گرلزگائیڈاورسکینہ جنریشن کے زیراہتمام مرکزی امام بارگاہ جامعہ المرتضیٰ جی نائن فورمیں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے سے خطیبہ سیدہ میمونہ رباب کاظمی نے کہا کہ خانوادہ رسالت عزت وآزادی کا مظہر ہے، نواسہ رسول کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش

میں سوجانا، نواسہ رسول نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت شہادت کوترحیج دی۔ انہوں نے کہاکہ کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے، تاریخ کربلا میں امام حسین ؓکا یہی پیغام پوشیدہ ہے کہ آپ ؓنے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کےساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیاتاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔ مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے جو احساسات کو جگاتی اور واقعہ کو جاودانی بنادیتی ہے، کربلا میں ایک طرف ظالموں کی برہنہ تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت،ظاہری طورپر امام عالی مقامؓ اور آپؓ کے ساتھی شہید ہو گئے لیکن کامیابی انھیں کو حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ خون شہداءنے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی، جب مدینہ میں حضرت امام سجاد ؓسے کسی نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا چنانچہ آج اذانوں میں توحیدورسالت کی گواہی حسین ؓ ابن علی ؓکی فتح کااعلان ہے ۔۔امام بارگاہ قصرامام علی نقی میں مجلس سے ذاکرنجم الحسن شاہ شیرازی نے خطاب کیا۔ اختتام مجلس جلوس برآمدہواجس میں علاقے بھر کے ماتمی دستوں نے ماتمداری کی ۔امام بارگاہ امام موسیٰ کاظم ؓمیں مجلس سے علامہ تصورحسین نقوی نے خطاب کیا۔ امام بارگاہی حیدری کورال میں سائں سخی حیدری کے زیراہتمام مجلس سے ذاکرمنتظرمہدی ، ذاکرکرم حسین شاہ ، محمدعلی حیدری ،قمررضانقوی نے بھی خطاب کیا۔