نیو یارک ( ارشد چودھری سے ) ایک جانب کورونا کے باعث بھارت کے امریکا سے آگے نکل جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت کی ایک سرکاری کمیٹی جسے کورونا وائرس کی پروجیکیشن کے حوالے سے ذمہ داری دی گئی ہے نے انکشاف کیا ہے کہ آئندہ برس فروری تک ملک کی ایک ارب

تیس کروڑ کی آبادی میں سے لگ بھگ نصف آبادی کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔کمیٹی کے مطابق اس سے اس وبا کے پھیلاؤ میں کمی آنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ اس وقت بھارت میں 75 لاکھ افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور یہ امریکا کے بعد دوسرا سب سے زیادہ وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد والا ملک ہے۔تاہم ستمبر کے مہینے میں وبا کی پیک (بلند ترین شرح) کے بعد اب اس میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، اور ایک غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھارت میں اب اوسطاً روزانہ 61 ہزار 390 نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔انڈین انسٹیٹوٹ فار ٹیکنالوجی کانپور کے پروفیسر اور سرکاری کمیٹی کے رکن منندرا اگروال کہتے ہیں کہ ہمارے میتھیمیٹیکل ماڈل کے تخمینے کے مطابق اس وقت آبادی کا 30 فیصد حصہ وبا میں مبتلا ہوچکا ہے اور یہ فروری تک 50 فیصد ہوجائے گا۔