گذشتہ کچھ دنوں سے ملک بھر میں کچھ لبرل خواتین کی طرف سے لگائے جانے والا نعرہ “میرا جسم میری مرضی” زیر بحث تھا لیکن اس پر سونے پہ سہاگہ اس وقت ہوا جب ایک نجی ٹی وی کے ایک شو میں ایک ڈرامے سے شہرت پانے والے معروف لکھاری خلیل الرحمان قمر نے اسی لبرل گروپ کی ممبر ایک خاتون ماروی سرمد کی بےعزتی کی تو اس بحث میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا اور ہر طرف اودھم مچا ہوا ہے کچھ لوگ خلیل الرحمان قمر کے حق میں بات کر رہے ہیں جبکہ کچھ ماروی سرمد کے حق میں. میں یہ مانتا ہوں کہ ہمارے معاشرے پر مردوں کی اجارہ داری ہے اور ہم نے اپنی ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے حقوق غضب کئے ہوئے ہیں ہم شادی جیسے اہم معاملے پر اپنی بیٹی کی رائے نہیں پوچھتے، ہم وراثت میں حصہ دینے کے معاملہ پر بہن کے حصے پر ناجائز قبضہ کر لیتے ہیں، ہم اپنی بہن یا بیٹی کا تعلیم کے معاملہ میں استحصال کرتے ہیں اور بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت اچھے ادراروں میں تعلیم دیتے ہیں جبکہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو زندگی میں ان کی مرضی کا پروفیشن استعمال نہیں کرنے دیتے. لیکن یہ ہمارا ذاتی فعل ہوتا ہے اس میں ہمارے مذہب کا کوئی دخل نہیں حالانکہ ہم اپنا یہ گند مذہب کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمارا مذہب تو عین دینِ فطرت اور توازن کا دین ہے جس نے آج سے چودہ سو سال پہلے سب چیزیں وضع کر دی تھیں جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہہ کا رشتہ آیا تو آپ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تب تک اِس رشتے کو قبول نہیں کیا تھا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی سے انکی رائے معلوم نہیں کر لی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیوی اور امت کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تو شادی سے پہلے ہی تجارت کا بہت بڑا کاروبار کرتی تھیں اور وہاں کے معاشرہ میں خاصی اہمیت کی حامل تھیں جبکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بہت بڑی عالمہ تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی کئی جید صحابہ کرام ان سے دین کا علم حاصل کرتے رہے. ہمارہ یہ ماننا ہے کہ ہمارہ معاشرہ نہ دین کے مطابق اور نہ ہی معاشرتی اور ملکی قوانین کے مطابق خواتین کو انکے جائز حقوق مہیا کر رہا ہے .
اب دیکھنا یہ ہے کہ ماروی صاحبہ اینڈ کمپنی جو مطالبہ کر رہی ہے آیا وہ ہے کیا؟ انکا مطالبہ ہے کہ چونکہ جسم عورت کی ذاتی ملکیت ہے تو ان کے اس جسم پر مرضی کا حق بھی اس عورت کا بنتا ہے لبرل اینڈ کو پہلے یہ فیصلہ تو کر لیں کہ جسم پہ انکا کا اختیار ہے بھی کہ نہیں حالانکہ اگر تھوڑا سا غور کریں تو یہ کوئی اتنی مشکل سائنس نہیں ہے جسم کو زندہ رکھنے کیلئے پہلی ضرورت سانس لینے کی ہے جو ہم اپنی مرضی سے نہیں لے سکتے، جسم کو زندہ حالت میں رکھنے کیلئے دوسری ضرورت دل کے دھڑکنے کی ہے جس سے ہماری سانسیں آٹو میٹک چلتی ہیں دل ایک منٹ میں تقریباً ستر مرتبہ دھڑکتا ہے اس کی دھڑکن بھی ہمارے بس میں نہیں، تیسرا قابل غور کام جو ہمارا جسم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم مختلف قسم کی خوراک منہ کے ذریعے اس میں ٹھونس لیتے ہیں اور اس خوراک میں مختلف چیزیں مختلف مقدار میں شامل ہوتی ہیں جب یہ ہمارے خون میں شامل ہوتے ہیں تو ہمیں اسکا علم ہی نہیں ہوتا مگر انکی ایک خاص مقدار رہ جاتی ہے جبکہ بقیہ آٹو میٹک طریقہ سے نکل جاتی ہیں اگر جسم ہماری ملکیت ہوتا تو ہمیں ضرور علم ہوتا کہ یہ کیسے ممکن ہو رہا ہے، اگر جسم ہماری ملکیت ہوتا تو ہمارے جسم میں اندر ہی اندر کئی مہلک بیماریاں لگی ہوتی ہیں لیکن ہمیں علم ہی نہیں ہوتا اب آپ سوچیں کہ اگر یہ ہماری ذاتی چیز ہوتی تو ہمیں اس کے اندر کی معلومات بھی

ضرور ہوتیں. لبرل اینڈ کمپنی کو کوئی یہ سمجھائے کہ نہ یہ جسم ہمارا ہے اور نہ ہی اس پر اختیار. اگر ہمارا اختیار اس جسم پر ہوتا تو ہم اپنی سانسیں اس سے جدا کر کے کیوں مرتے؟ دنیا میں کون چاہتا ہے کہ اس پر موت آ جائے آیا .
اب ہم بات کرتے ہیں اخلاقیات اور سماجیات کی کہ انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے وہاں اس معاشرہ نے کچھ حدود و قیود وضع کی ہوتی ہیں اور وہاں پر ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو اسی سماج کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے جہاں وہ رونما ہو رہی ہوتی ہیں یعنی آپ مغربی طرز معاشرت کو اسی سماج کے تناظر میں پرکھیں گے اور مشرقی سماجی تغیرات کو اسی سماج کے تناظر میں. آپ کے شاید علم میں یہ بات ہو کہ امریکہ میں ہم جنس پرستی قانوناً جائز ہے لیکن اب بھی وہاں بہت سی ایسی ریاستیں موجود ہیں جہاں ہم جنس پرستی قانوناً جرم ہے اور وہاں پر وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں کا ریاستی چیف جسٹس اسے قابل اعتراض سمجھتا ہے.