لاہور ( وی او پی )یتیم و بے سہارا بچیوں کے مرکز کاشانہ ویلفیئر کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف انکشافات پہ انکشافات کررہی ہیں . انہوں نے اب تازہ ترین انکشاف نے کاشانہ ویلفیئر سے بچیوں کی

جبری شادیاں کرانے کے حوالے سے کیا ہے اور اس انکشاف نے اہل لاہور کو مزید حیران و پریشان کر دیا ہے۔ یہاں قابل غور امر یہ ہےکہ افشاں لطیف نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کو خط بھی لکھ دیا ہے .لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افشاں لطیف نے کہا کہ کاشانہ کے واقعات سامنے آنے پر ہمیشہ پردہ ڈال دیا جاتا تھا، تاہم 29نومبر کو کاشانہ کی بچیاں منظر عام پر آئیں۔کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ کاشانہ کی عینی شاہدین بچیوں کو وہاں سے غائب کردیا گیا ہےجبکہ دروازہ توڑنے کا طریقہ کار

 

چار ماہ سے جاری تھا۔ کاشانہ کا سارا عملہ تبدیل ہوچکا ہے، چھ اپریل کے بعد ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا۔ سابق ویلفیئر وزیر اجمل چیمہ نے دفتر میں آکر دھمکایا اور بچیوں سے ملاقات کی جبکہ بچیوں کی حدود میں رات کے وقت کوئی نہیں آسکتا اور 9 جولائی کو بچیوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا گیا۔
افشاں لطیف نے کہا کہ افسر ندیم وڑائچ انکوائری کے لیے آیا اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا جبکہ وزیراعلیٰ کی معائنہ ٹیم کے سامنے اجمل چیمہ نے میرا ہاتھ پکڑا جس پر میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو خط لکھا، مگر وزیراعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم کی ہدایت پر مجھے نکال دیا گیا۔ افشاں کرن نے صائمہ کو کاشانہ میں وارڈن بنایا اور افشاں کرن مزید رشتہ داروں کو یہاں لگوانا چاہتی تھی۔سابق سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ پانچ سال میں 25 جبری شادیاں کرائی گئیں، مگر ان شادیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔