افغان جنگ میں پاکستان کا مجموعی جانی نقصان نیٹو ممالک سے 10گنا ‘ سفارتی ذرائع
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔ وفاقی دارالحکومت کے سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور نیٹو ممالک سے 10 گنا زیادہ انسانی جانوں کی قربانی دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی منطق سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ پاکستان مخالف بیان دونوں ملکوں کے مابین فاصلے بڑھانے کیلئے دے رہے ہیں یا پاکستان کے کسی دشمن کو خوش کرنے کیلئے؟ افغان جنگ میں پاکستان کا جانی نقصان امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ ہالینڈ‘ اسپین‘ ڈنمارک‘ سویڈن‘ ناروے‘ جاپان‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا سمیت نیٹو کے درجنوں ملکوں کے جانی نقصان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردی کیخلاف پاکستان امریکہ کی افغان جنگ کا ہراول دستہ بنا۔ آج صدر ٹرمپ پاکستان کے جس دشمن ملک کو خوش کرنے کیلئے پاکستانی جانی نقصان کا زبانی ادراک بھی نہیں کر رہے‘ اْن کو معلوم ہونا چاہئے کہ نیٹو افواج کیلئے نائن الیون کے بعد پاکستان نے کراچی کا اولڈ ائرپورٹ جو جناح ائرپورٹ ٹرمینل کے ساتھ ہے کو امریکیوں کے حوالے کیا۔ امریکی ٹینک‘ توپیں‘ جنگی ہتھیار‘جہاز سبھی کراچی اْترے اور براستہ بلوچستان افغانستان میں داخل ہوئے۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کی ایک ٹیلیفون کال پر امریکہ کے سامنے سرنڈر کیا۔ پاکستان کا سمندر‘ پاکستان کی سرزمین اور پاک فضاؤں کو امریکہ اور اسکے اتحادی نیٹو ممالک کیلئے انکے حوالے کیا۔ حتیٰ کہ سندھ‘ بلوچستان میں دو فضائی اڈے بھی خالی کر کے امریکی افواج کو دے دیئے جہاں سے مہینوں تک امریکی جنگی طیارے‘ ہیلی کاپٹرز پروازوں میں مصروف رہے۔(بشکریہ : ر،ج)