لاہور ( طیبہ بخاری سے )ابھی کچھ روز قبل پاکستان کے ڈی جی آئی ایس آئی افغانستان کے خصوصی دورے پر گئے تھے ، پوری دنیا کی نظریں اس دورے پر تھیں ، افغانستان میں موجود مقامی و غیر ملکی میڈیا نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ان کےدورے سے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے

 

مختصرامیڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور سب کچھ جلد بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا. جنرل فیض حمید کے دورہ افغانستان کے بعد پاکستان واپسی پر بھی میڈیا کو شدت سے انتظار تھا کہ ان کے دورے میں کیا پیش رفت ہوئی ؟ اور اب سب سے اہم خبر یہ سامنے آئی ہے کہ
افغانستان کی صورتحال پر پاکستان میں اہم اجلاس، ڈی جی ISIلیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکی میزبانی میں ہوا . اس اجلاس میں 8انٹیلی جنس چیفس نے شرکت کی اور اہم امور پر صلاح مشورہ ہوئے.پاکستان، چین،روس، ایران،قازقستان ، ترکمانستان ، ازبکستان اور تاجکستان کی انٹیلی جنس قیادت کا افغان صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اورخفیہ معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا .اجلاس میںبھارتی غیر ضروری سرگرمیوں سے متعلق پاکستانی تحفظات پر بھی غور ہوا. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کاکہناہےکہ افغانستان میں معاشی بحران دہشتگردوں کیلئےتحفہ ثابت ہوسکتا ہے۔ادھر طالبان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ عام معافی شرعی قانون، دلوں سے بدلے کی سوچ نکل گئی،ماضی کےمخالفین کانام بھی احترام سے لیا جائے، مستقبل میں غیر طالبان کوحکومت میں شامل کرسکتے ہیں ۔
اور آئیے اب ذرا تفصیل اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں .تفصیلات کےمطابق پاکستان ، چین، روس، ایران،قازقستان ، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی انٹیلی جنس قیادت نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس کی میزبانی ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کی۔اجلاس میں غیر ضروری بھارتی سرگرمیوں پر پاکستانی تحفظات پر بھی غور ہوا،علاقائی سلامتی، دیرپا امن و استحکام کے قیام پر مشاورت کی گئی اور یکساں لائحہ عمل کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے کہاہےکہ ا فغانستان میں معاشی بحران سے بچنے کے لیے کیش کی فراہمی ضروری ہے جبکہ معاشی بحران افغان عوام کے لیے تباہ کن اور دہشت گردوں کے لیے تحفہ ثابت ہو گا، ممکنہ تباہ کن صورت حال سے بچنے کے لیے راستہ نکالنا ہو گا اور عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے

چیف سے افغانستان سے متعلق بات ہوئی تھی۔ آئی ایم ایف نے 440 ملین ڈالرز کے ایمرجنسی ریزرو تک افغانستان کی رسائی روکی ہوئی ہے اور افغان سینٹرل بینک کے 10 ارب کے اثاثے بھی بیرون ملک منجمد ہیں۔دوسری جانب میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان طالبان سہیل شاہین کاکہنا تھا کہ طالبان کی عبوری کابینہ کی حلف برداری کی تقریب اب پلان کا حصہ نہیں، پہلے پروگرام میں تھا کہ ہم حلف برداری کی تقریب رکھیں گے۔اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسرے ممالک سے وفد مدعو کیے جائیں جب کہ پروٹوکول کے انتظامات اور عوام کے لیے سروسز کی ضرورت تھی، لیڈر شپ نے فیصلہ کیا ہے کہ فوری طور پر وزرا کا اعلان کیا جائے کیوں کہ عبوری کابینہ کا اعلان ہوچکا لہٰذا اب تقریب منسوخ ہوچکی ہے، مستقبل میں غیر طالبان کوحکومت میں شامل کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب افغان حکومت کے قائم مقام وزیرِ داخلہ ملا سراج الدین حقانی نے کہاہے کہ ہم نے جو معافی دی وہ سیاسی معافی نہیں بلکہ شرعی قانون ہے، معافی نے ہمارے دلوں سے بدلے کی سوچ نکال دی ہے،کابل میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں افغان حکومت کے قائم مقام وزیرِ داخلہ ملاسراج الدین حقانی کا تعارف کرایا گیا۔اجلاس میں افغانستان بھر سے متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی جبکہ قائم مقام وزیرِ داخلہ ملا سراج الدین حقانی نے اجلاس سے خطاب بھی کیا.قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ہم کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے، دوسرے بھی ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں، مجاہدین کو اپنے رہنماوں کی اطاعت کرنی چاہیے۔