نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک )یہ تو ہونا ہی تھا ……بھارتی اخبار کے مطابق 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہیرو عرفان پٹھان نے بھارت کی جانب سے 29 ٹیسٹ120 ایک روزہ بین الاقومی اور 24 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔عرفان پٹھان نے ٹی20 ورلڈکپ میں بھارت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ایک بیان میں عرفان پٹھان نے ہر طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں اُنہیں

گنگولی، ڈریوڈ اور لکشمن جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع ملا۔عرفان پٹھان نے بھارت کی جانب سے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ ورلڈکپ2012 میں جنوبی افریقا کے خلاف کولمبو میں کھیلا تھا۔لیف آرم فاسٹ بولر بھارت کے ان تین فاسٹ بولرز میں شامل ہیں، جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کی ہے۔عرفان پٹھان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا تھا، ایک ماہ بعد انہوں نے آسٹریلیا ہی کے خلاف اپنے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر شروع کیا۔بھارتی فاسٹ بولر نے کبھی پیس پر زور نہیں دیا، رائٹ آرم بیٹسمینوں کے لیے گیند کوسوئنگ کرنے کی صلاحیت اُن کا موثر ہتھیار تھی۔انکا موازنہ ماضی کے نامور بھارتی بولر کپیل دیو کے ساتھ کیا جاتا تھا اور اُنہیں کپیل دیو کے بعد بہترین آل راؤنڈر تصور کیا جاتا تھا۔2006 میں دورہ پاکستان کے دوران کراچی ٹیسٹ کے پہلے ہی اوور کی ابتدائی تین گیندوں پر سلمان بٹ، یونس خان اور محمد یوسف کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک کی تھی اور ہربجن سنگھ کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی بولر بنے تھے۔تاہم پاکستان کے محمد آصف اور عبدالرزاق کی تباہ کن باؤلنگ کے آگے بھارتی بیٹنگ لائن تہس نہس ہوگئی تھی اور پاکستان یہ میچ 341 رنز کے ریکارڈ مارجن سے جیت گیا تھا۔عرفان پٹھان نے 2007ء کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا اور فائنل میں پاکستان کے خلاف اپنے چار اوورز میں 16 رنز کے عوض 3 وکٹیں لے کر پلیئر آف دی میچ پرفارمنس دی۔