انیلہ افضال
2019 کا اقوام متحدہ کا سربراہ اجلاس اقوام عالم کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پون صدی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم پر مسلمان ممالک کے سربراہان نے جرات اور غیرت کے وہ جھنڈے گاڑے ہیں جن کی چبھن صدیوں یہود و

نصارٰی کے دلوں میں نہ صرف کھٹکتی رہے گی بلکہ ناسور بن جائے گی۔ کس کس کا ذکر کریں طیب اردگان نے ایک سچے خلیفتہ المسلمین کی طرح ایک ایک اسلامی ملک کے زخموں پر پھاہے رکھے ہیں تو مہاتیر محمد کی جانب سے پیغام یک جہتی نے اہل کفر کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ ایسا تو آج تک نہ ہوا تھا۔ اس ایوان میں تو مسلمانوں کو دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن کہا جاتا تھا اور بار بار کہا جاتا تھا اور عالم اسلام کی خاموشی کو ان کی جانب سے ایکسیپٹینس مان لیا جاتا تھا۔
اس انوکھے اجلاس میں عالم اسلام نے اغیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں ان کے مرض سے آگاہ کر دیا ہے کہ اے دنیا کے منصفو! تم جس مرض میں مبتلا ہو اسے ”اسلامو فوبیا“ کہا جاتا ہے۔ جیسے کسی کو اونچائی کا فوبیا ہوتا ہے، کسی کو پانی کا فوبیا ہوتا ہے، کسی

کو اندھیرے کا فوبیا ہوتا ہے بالکل اسی طرح اقوام عالم کو اسلامو فوبیا کا مرض لاحق ہے۔ جس کا صرف اور صرف ایک ہی علاج ہے کہ یہ یہود و نصارٰی اور یہ ہندوتوا اسلام کے مقام کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اسے اس کے اعلیٰ منصب پر تسلیم بھی کریں اور ایسا عمل کرنے میں چین نے بارش کے پہلے قطرے کا کردار ادا کیا اور ہمیں یقین ہے بہت جلد یہ سلسلہ چل نکلے گا۔ امت مسلمہ کے جو بھی نمائندگان وہاں موجود تھے انہوں نے اغیار کے خوب خوب لتے لیے بالخصوص قابل صد احترام جناب طیب اردگان صاحب اور فخر پاکستان جناب عمران خان صاحب نے بلکہ خان صاحب نے تو مارا بھی اور گھسیٹا بھی۔
”دنیا کی تمام کمیونیٹیز میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، انتہا پسند سے لے کر ماڈریٹ تک لیکن آپ اس وجہ سے عیسائیوں یا یہودیوں کو تو انتہاپسند نہیں کہتے، تو پھر مسلمانوں کو انتہا پسند کیوں

کہا جاتا ہے؟“ وزیراعظم جناب عمران خان نے بڑے ہی جارحانہ لیکن مدبرانہ انداز میں ایوان میں بیٹھے ہوئے مختلف سربراہان مملکت، مندوبین اور سفارتی گروہوں پر واضح کیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ خودکش دھماکے مسلمانوں کی بجائے تامل ٹائیگرز نے کیے جو کہ ہندو ہیں۔ آپ ہندووں کو تو دہشتگرد نہیں کہتے لیکن مسلمانوں کو کہتے ہیں۔
”ہر دو تین سال بعد ہمارے نبیﷺ کی توہین کی جاتی ہے اور جب ہمارا رد عمل آتا ہے تو ہمیں انتہا پسند یا اسلام کو انتہاپسند کہنا شروع کردیا جاتا ہے۔ یہ رحجان مغرب سے شروع ہوا ہے، مغرب میں جان بوجھ کر ہمارے نبیﷺ کی توہین کی جاتی ہے تاکہ ہمارے

ردعمل کو جواز بنا کر اسلام کو نشانہ بنایا جاسکے۔ اگر ہولوکاسٹ کا ذکر بھی کیا جائے تو یہودیوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ ہم بھی صرف یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے نبیﷺ کی توہین مت کی جائے کیوں کہ اس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے“۔
یہاں سے وزیراعظم نے اپنی روپوں کا رخ انڈیا کی جانب کرتے ہوئے کہا کہ، ”بھارت نے تیس سال میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا، 11 ہزار عورتوں کو ریپ کیا۔ اب کرفیو لگا کر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مودی کیا سمجھتا ہے، جب وہ کرفیو اٹھائے گا تو حالات نارمل رہیں گے؟کشمیر میں خون کا غسل ہوگا، کشمیری بدلہ لیں گے، تمہارا جینا مشکل کرکے رکھ دیں گے۔
یہاں وزیراعظم نے مغرب کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں انہی کے انداز میں لاجواب کر ڈالا، ”ہالی ووڈ کی فلم آئی تھی جس کا نام تھا ڈیتھ وِش۔ اس فلم میں ہیرو کو کچھ لوگ لوٹتے ہیں اور اس کی بیوی قتل کردیتے ہیں۔ ہیرو کو انصاف نہیں ملتا تو وہ بندوق اٹھا کر سب کریمنلز کو مارنا شروع کردیتا ہے۔ سینما میں بیٹھے لوگ کھڑے ہو کر اسے داد دینا شروع کردیتے ہیں۔ اگر یہی کچھ کشمیری بھی کریں تو پھر انہیں دہشتگرد مت کہیں، انہیں بھی ہیرو ہی کہنا ہوگا“۔
خان کے ان جملوں پر تو ایوان میں بیٹھے لوگوں کے جسموں میں یقیناََ چونٹیوں نے رینگنا شروع کر دیا ہو گا کہ، ”اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی اور پاکستان جو کہ انڈیا سے سات گنا چھوٹا ملک ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو میرا یقین ہے لا الہ الا اللہ! یعنی اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں! تو پھر ! پھر ہم نیوکلئیر آپشن استعمال کریں گے۔ اقوام متحدہ کے پاس موقع ہے کچھ کرنے کا اور اگر اقوام متحدہ نے اب بھی کچھ نہ کیا تو پھر ہمیں کوئی کچھ نہ کہے“۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ اور آپ اسے برقرار بھی رکھیے اور اس پر ثابت قدم بھی رہئیے لیکن اس بات کو تسلیم تو کیجیے کہ امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کی نمائندگی جس طرح موجودہ وزیراعظم نے کی اس کی نظیر اقوام متحدہ کی 75 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی اور بلاشبہ وزیر اعظم پاکستان کی یہ تقریر آئندہ صدیوں تک اقوام متحدہ کے ایوانوں میں گونجتی رہے گی۔ امریکن سینیٹر ٹونی بروک کا کہنا ہے، ”اگر وہ سلیکٹڈ ہے تو وہ ایک بہترین سلیکشن ہے اور اگر وہ الیکٹڈ ہے تو بلاشبہ پاکستانی ایک زیرک قوم ہیں“۔
ادارے کا مضمون نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں