جینیوا( نیٹ نیوز ) اقوام متحدہ نے پیش گوئی کی ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والے حالیہ بحران کے بعد پانچ لاکھ کے قریب افغان شہری ملک چھوڑ سکتے ہیں جبکہ نصف آبادی امداد کی منتظر ہے۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (سی آر) نے افغان شہریوں کی ہجرت سے متعلق اعداد و شمار کی پیش گوئی کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ شہریوں کی حفاظت، بقا و سلامتی کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کیلی کلیمنٹس کی ڈپٹی کمنشر نے جینیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان

کی صورت حال بہت خراب ہے، وہاں بحران پیدا ہوگیا ہے، اسی وجہ سے بڑی تعداد میں شہری ملک چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہورہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ پانچ لاکھ کے قریب افغان پناہ گزینوں کی تیاری کررہا ہے، ماضی میں اتنی بڑی تعداد میں کبھی افغان شہریوں نے گھر نہیں چھوڑا وہاں صورت حال توقع سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہورہی ہے.دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے افغانستان کے اسپتالوں میں ادویات اور افرادی قوت کی کمی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کی منتقلی کے بعد وہاں میڈیکل اسٹاف میں بہت زیادہ کمی ہوسکتی ہے.ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسیز کے ڈائریکٹر رِک برینن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت تھوڑے دنوں کی سپلائی رہ گئی ہے اور ہم مزید ادویات پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کابل میں دھماکے کے بعد ایک ہسپتال میں کام کرنے والی اٹلی کی این جی او پر بہت بوجھ ہے، ان کو میڈیکل کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ واقعے سے پہلے بھی میڈیکل سپلائی کی ضرورت تھی اور ڈبلیو ایچ او نے طالبان کے کنٹرول کے بعد تین جہازوں پر مشتمل سپلائی روک دی تھی‘اقوامِ متحدہ نے کہا کہ ’میڈیکل آلات، ادویات کی ترسیل کے لیے دوسرے آپشنز زیر غور ہیں، مستقبل میں میڈیکل سپلائی کابل کے بجائے مزار شریف ایئرپورٹ کے ذریعے کی جاسکتی ہے مگر صحت کے حکام اور عملے کا ملک چھوڑ کر جانا کسی المیے کو جنم دے سکتا ہے‘اقوام متحدہ نے کہاکہ افغانستان کی نصف آبادی (ایک کروڑ 80 لاکھ شہریوں) کو امداد کی ضرورت ہے، چار سالوں کے دوران دوسری خشک سالی ہوئی، جس کی وجہ سے افغان بچوں کی نصف تعداد غذائی قلت کا شکار ہوگئی ہے۔دوسری جانب طالبان نے اقوام متحدہ کویقین دلایا ہے کہ وہ انسانی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے جبکہ بیرونی حکومتیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ طالبان کی حکومت میں آبادی کوکیسے مدد فراہم کی جائے۔