اسلام آباد( نیٹ نیوز )اسلام آباد میں قتل ہونے والی خاتون نور مقدم کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی پولیس نے نور مقدم کیس کا چالان مکمل کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس چالان میں ملزم ظاہر جعفر کو مجرم قرار دیا گیا ہے، چالان میں ملزم کے والدین اور تھراپی ورکس کے مالک اور ملازم بھی مجرم قرار دیے گئے ہیں۔ پیر یا منگل کو پولیس چالان عدالت میں پیش کرے گی، چالان میں

تمام ملزمان کو سخت سزا دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس چالان میں ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت کی استدعا کی گئی ہے، چالان میں دیگر ملزمان پر اعانت اور جرم چھپانے کے تحت سزا کی استدعا کی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں عید الاضحیٰ سے صرف ایک رات قبل قتل کی لرزہ خیز واردات میں ملزم ظاہر جعفر نے سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کو قتل کردیا تھا۔مرکزی ملزم کے جرم کے بعد اس کے والدین قتل کو چوری کا رنگ دینے، پولیس تفتیش کے مطابق کئی گھنٹوں سے ملزم کے ارادوں سے واقف ہونے کے باوجود جرم کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت یا کم از کم عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف تیار کیا گیا چالان آئندہ ہفتے پیش کیا جاے گا۔