کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک )بس کر دو بس ……پہلے تو ایک دوسرے کیخلاف جملوں سے حملے ہوا کرتے تھے مگر اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اراکان اسمبلی ایک دوسرے کو ایوانوں میں بد دعائیں دینے لگے ہیں . آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن ہم آپ کو اس کی مثال پیش کریں گے . منگل 23 جون کو جب سندھ

اسمبلی کے اجلاس کا آغاز ہوا تو پھر ہنگامہ خیر ثابت ہوا، جب جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی کا رکن پیپلز پارٹی شمیم ممتاز اور کلثوم چانڈیو کے ساتھ جھگڑا ہو گیا، جس کے دوران ایک دوسرے کو بد دعائیں بھی دی گئیں۔ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی صدارت میں سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا ہی تھا کہ نصرت سحر عباسی اور کلثوم چانڈیو کے درمیان نوک جھونک ہو گئی۔جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ خدارا جرگے نہ کرائے جائیں، ان کو کہا گیا ہے کہ مجھے بولنے نہ دیں۔پیپلز پارٹی کی خواتین ارکانِ سندھ اسمبلی نے اس موقع پر نصرت سحر عباسی کے رویے کے خلاف احتجاج کیا۔ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کے روکنے کے باوجود خواتین ارکان میں نوک جھونک جاری رہی۔پیپلز پارٹی کی رکنِ سندھ اسمبلی شمیم ممتاز نے ’’تم خاموش رہو‘‘ کے الفاظ کہہ کر نصرت سحر عباسی کو جھڑک دیا۔جی ڈی اے کی رکنِ سندھ اسمبلی نصرت سحرعباسی نے کہا کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔پیپلز پارٹی اراکین اور نصرت سحر عباسی نے اس موقع پر ایک دوسرے پر تنقید کی اور ایک دوسرے کو بد دعائیں بھی دیں۔ اب تو آپ کو یقین آ گیا ہو گا کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے .