نیویارک (اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک) مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل کے بغیر دنیا میں امن ممکن نہیں ، بھارت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی توبھرپور جواب دینگے،جنرل اسمبلی اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے عالمی دن کا اعلان کرے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں سالانہ سربراہ اجلاس سے ورچوئل خطاب میں کہاکہ جب سے میں نے اقتدار سنبھالا ہماری مسلسل کوشش رہی

ہے کہ پاکستان میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں، ہمارے نئے پاکستان کا تصور پیغمبر آخرالزماں محمد ﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہے۔انصاف اور انسانی اقدار پر مبنی ایک ایسے معاشرے کاقیام جہاں حکومت کی تمام پالیسیوں کا محور اپنے شہریوں کو غربت سے نکالنا اور منصفانہ نظم و نسق قائم کرنا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کی ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن سے رہنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کرنا ہے۔آج ورلڈ آرڈر کے بنیادی اہداف، طاقت کا یکطرفہ عدم استعمال یا خطرہ، لوگوں کے لیے حق خود ارادیت کا حصول، مساوی خود مختاری اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت، اندرونی معاملات میں عدم

مداخلت، بین الاقوامی تعاون ان تمام تصورات کو باقاعدہ طور پر پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کا تمسخر اڑانے کے ساتھ ساتھ ان کو نظرانداز کیا جارہا ہے،بڑی طاقتوں کے درمیان از سر نو رقابت کے نتیجے میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہورہی ہے،تنازعات بڑھ رہے ہیں اور ان میں شدت آرہی ہے، فوجی قبضے اور غیر قانونی الحاق کے ذریعے لوگوں کے حق خودارادیت کو دبایا جارہا ہے۔ محترم پروفیسر نوآم چونسکی کے مطابق جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے، ماحولیاتی تبدیلی، آمرانہ حکومتوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کی وجہ سے آج نوع انسانی کو گذشتہ صدی میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے خطرے کا سامنا ہے۔ ہمیں ایسی تباہ کن صورتحال سے تحفظ کے

لیے ہر صورت مل کر آگے بڑھنا ہوگا، آج پاکستان کے کرونا ردعمل کاوباءپر قابو پانے کے حوالے سے کامیاب حکمت عملی کے طور پر حوالہ دیاجاتا ہے تاہم اب بھی ہم مشکل سے باہر نہیں نکلے اور اسی طرح کوئی بھی دوسرا ملک بھی اس مشکل سے آزاد نہیں ہوا ، امیر ممالک نے خود وباءسے نمٹنے اور بحالی کے لیے10 ٹریلین امریکی ڈالرز مہیا کیے ہیں، انہیں ترقی پذیر ملکوں کے نئے ایس ڈی آر کے لیے کم سے کم 500 ارب ڈالرا کی فراہمی کے لیے مدد کرنی چاہیے۔ وباءنوع انسانی کو قریب لانے کا ایک موقع تھا، بدقسمتی سے اس نے قوم پرستی کو ہوا دی، عالمی تنازعات میں اضافہ ہوا اور متعدد مقامات پر کمزور اقلیتوں کے خلاف نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت اور تشدد کے واقعات بڑھے ہیںان رحجانات نے اسلامو فوبیا کوبھی بڑھکایا ہے، بہت سے ملکوں میں مسلمانوں کو بلاخوف و خطر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہماری زیارتوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، ہمار ے پیغمبر خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی توہین کی جارہی ہے، قرآن پاک کو شہید کیاگیا ہے اور یہ سب اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ہورہا ہے۔ چارلی ہیبڈو کی طرف سے توہین

آمیزخاکوں کی دوبارہ اشاعت سمیت یورپ میں ہونے والے واقعات حالیہ مثالیں ہیں، ہم سختی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی اور نفرت و تشدد کی ترغیب دینے کو عالمی سطح پر غیرقانونی قرار دیا جائے۔ اس اسمبلی کو چاہیے کہ اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی دن کا اعلان کرے اور اس ناسور کے خلاف متحد ہوں جو انسانیت کی تقسیم کا باعث ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج دنیا میں بھارت واحدایسا ملک ہےجہاں ریاست اسلاموفوبیا کی سرپرستی کر رہی ہے، اس کے پیچھے آرایس ایس کا نظریہ کارفرما ہے جو بدقسمتی سے آج بھارت پر مسلط ہے، یہ انتہا پسندانہ نظریہ1920کی دہائی میں منظرعام پر آیاتھا، آر ایس ایس کے بانی نازیوں سے متاثر تھے اور انہوں نے نسلی پارسائی اور برتری کے نظریات کو اپنایا۔جیسے نازیوں کی نفرت کا شکار یہودی تھے، آرایس ایس کا نشانہ مسلمان ہیں اور کسی حد تک عیسائی بھی ان کا ماننا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے اور دیگر بھارتی برابر کے شہری نہیں ہیں، بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو مختلف حربوں کے ذریعے حتی کہ ان کامکمل خاتمہ کرکے گاندھی اور نہرو کے سیکولرازم کے نظریے کے بر عکس ہندو ریاست کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔