ثناء نوشین
ہم اکثر سنتے اور بولتے ہیں جہیز ایک لعنت ہے۔ بے شک جہیز ایک لعنت ہے مگر کوئی یہ بھی تو بتائے کہ ہمارے آج تک کے تمام اقدامات میں جہیز دینے اور لینے کے کلچر کو فروغ دیا گیا یا روکنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ میرے بچپن کے دور کی بات ہے تب جہیز کو

لعنت کہا جاتا تھا اور کہا جاتا ہے مگر اب تو جہاں دیکھو کبھی لڑکے والے مظلوم لگتے ہیں تو کبھی لڑکی والے۔ بگاڑ جب پیدا ہوا جب لڑکی والوں کے راضی و خوشی سے دیے جانے والے جہیز کے ضروری سامان کو لڑکے والوں نے اپنا حق سمجھ کر قبول کرنا اور مانگنا شروع کردیا۔ بات اس قدر آگے نکل گئی کے اب شادی سے قبل فہرست تیار کرکے لڑکی والوں کے گھر اس شرط کے ساتھ پہنچا

دی جاتی ہے کے جہیز میں یہ تمام چیزیں موصول ہوئیں تو ہی بارات روانہ ہوگی۔ لڑکی کے باپ کا کندھا جھکتا چلا گیا اور لڑکے والوں کی ڈیمانڈز میں اضافہ ہوتا گیا اور اس جہیز خوری نے سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب بات کرتے ہیں شرعی حق مہر کی جو کہ ایک تحفے کی صورت رکھا گیا تاکہ میاں بیوی میں دوستی اور پیار کا رشتہ استوار ہو مگر جب اچھا عمل بھی اپنی حدودکراس کر لے برا ہو جاتا ہے .دوسرا ظلم بچی ابھی پڑھ رہی ہے کہہ کر اچھا رشتہ گنوا دینا۔ تیسرا ظلم ہم برادری سے باہر شادی نہیں کرتے۔

یہی مسائل لڑکے والوں کی جانب سے ہیں جنہیں تیس پینتیس سال کے لڑکے کے لیے سولہ سالہ دوشیزہ کی تلاش ہوتی ہے۔ جس کا پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری ہے اور عمر بھی کم سے کم ہو۔ کھاتا پیتا گھرانہ ہو اور گھر بھر کر جہیز دینے کی استطاعت بھی رکھتا ہو۔ ہمارے معاشرے کا یہ عام چلن ہے کہ لڑکے والے رشتہ دیکھنے جاتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور لڑکی میں معمولی نقص کی بنا پر شادی سے انکار کردیتے ہیں۔نہ جانے آج ہی ان ہی سماجی رویوں کے باعث کتنی

ہی لڑکیوں کے سروں میں چاندی اتر آتی ہے لیکن وہ معاشرے کے معیار پر پورا نہیں اتر پاتیں۔ ان کا بوڑھا باپ جہیز جمع کرنے کے چکر میں زندگی بھر محنت کرتا ہے لیکن پھر بھی اپنی بیٹیوں کو ان کے خوابوںکی تعبیر دینے میں ناکام رہتا ہے۔
مسئلہ جہیزیا بری نہیں ہے،مسئلہ یہ سماجی رویے ہیں جو دونوں کے طرف کے لوگوں کو سمجھنا چاہیے۔ نکاح آسان کرنا ہے تو پہلی فرصت میں بہترین رشتہ دیکھ کر ذات برادری کے چکر میں پڑے بغیر سادہ طریقے سے دعوت طعام کا اہتمام کرکے بیٹی کو رخصت کردیا جائے۔ ہم معاشرے میں ناک اونچی رکھنے کے چکر میں نکاح کو مشکل ترین بناتے جارہے ہیں۔
نوٹ: ادارے کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں