اسلام آباد (مشرف کاظمی سے) سرپرست اعلیٰ سپریم شیعہ علماءبورڈ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہاہے کہ درسی کتب ، تعلیمی اداورں میں حضرت محمد کے نام کےساتھ خاتم البنین لکھنا، پڑھنااوربولنالازمی قراردینے کیلئے قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد خوش آئندہے جس میں صلی اللہ علیہ کے ساتھ ”وآلہ “کالفظ شامل کیاجائے ، مولاناکوثرنیازی مرحوم نے اس بارے میں نوٹیفیکیشن بھی جاری کیاتھا،ایک استعماری گھناﺅنی سازش کے تحت ہمارامشترکہ دشمن پاکستان میں عصبیت کوفروغ دیکرمسلمہ

مکاتب کوآپس میں دست وگربیاں کرکے دوقومی نظریے کوسبوثاژکرناچاہتاہے.عوام پوری طرح چوکنارہیں اورملک میں بدامنی کاسبب بنے والے کسی قسم کے احتجاج اوراشتعال انگیزی کی کال پرکان مت دھریں ، اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اورگستاخان خانوادہ اہلبیتؑ کےخلاف سینٹ ،قومی اسمبلی ، خبیرپختونخوا، بلوچستان میں قرارداد منظورکرکے اس پرعملدرآمد کروایا جائے، سب کوذہن نشین رکھناچاہئے کہ اپنے نظریے کامثبت اندازمیں پرچارکرنارواداری لیکن کسی دوسرے پراپنانظریہ وعقیدہ تھوپناعصبیت ہے جس کی دین میں اجازت نہیں ، اسلام تلوارسے نہیں بلکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلبیت اطہارؑ، پاکیزہ صحابہ کبار کے اخلاق وکردارسے پھیلاہے.کشمیروفلسطین کے سلگتے ہوئے مسائل اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں ، فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق حل ہوئے بغیرعالمی امن کاخواب ہرگزشرمندہ تعبیرنہیں ہوگا، خانوادہ بنی ہاشم ؑ کے ہرمردوزن نے شریعت کی پاسبانی کاحق اداکیاجن میں حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم ؑ معصومہ قم سلام اللہ علیھاکی سیرت وکردار طبقہ نسواں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ان خیالات اظہارانہوں نےحضرت فاطمہ معصومہ قم کی ولادت پرنورکے موقع پریوم عظمت نسواں کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔