اسلام آباد ( ویب نیوز )جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نےحکومت سے پس پردہ ملاقاتوں کا اعتراف کرلیا۔اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو زرداری اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس بریفنگ دی۔اس موقع پر صحافی نے اپوزیشن رہنماؤں سے استفسار کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن دھرنے کے دوران حکومت سے پس پردہ ملاقاتیں کیں جو

اب راز نہیں رہیں، وہ ملاقاتیں جائزہ کیسے ہوگئیں؟اس سوال پر پہلے بلاول بھٹو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہمارے علم میں ہے، اس پر اے پی سی میں بھی بات ہوئی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بات رابطوں کی نہیں موقف کی ہوتی ہے، جب بھی ملے ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔اس سے قبل انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی، مطالبات منظور نہ ہوئے تو میدان بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، جہدوجہد جاری رکھیں گے۔ الیکشن کمیشن میں

تقرریوں کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اے پی سی نےسی پیک سے متعلق وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی ناروے کے واقعے پر حکومت سے سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب تک آصف زرداری نے ضمانت کے لیے درخواست نہیں دی، سابق صدر کو فیملی کی توقعات کے مطابق طبی سہولیات نہیں دی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے سپریم کورٹ اس غلطی کو درست کرے گی اور آصف زرداری کا کیس سندھ میں چلے گا۔پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی الیکشن کے لیے تیار ہے، اس لیے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں.