عمر ملک
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو
یہ دنیا دھوکہ و فریب کے سوا کچھ بھی نہیں
چھوڑ کر اس دنیا کو تو سب نے ہی ایک دن چلے جانا ہے
مگر بعض لوگ، بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے چلے جانے سے ایسا لگتا ہے کہ شاید آپ کے جسم کا کچھ حصہ بھی ان کے ساتھ ہی چلاگیا ہے.آج طارق عزیز صاحب اور ایسے کتنی شخصیات پچھلے کچھ

ہی عرصہ میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں.بلاشبہ انسان تو آتا ہی جانے کیلئے ہے مگر کبھی کبھار دل کرتا ہے کہ کاش ہم بھی ان کے ساتھ ہی چلے جاتے یا پھر ان سے پہلے کیونکہ ان ہستیوں سے رشتہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ان کی جدائی ناقابل بیان ہوجاتی ہے.طارق عزیز شاید شوبز کی ان چند ہستیوں میں سے تھےجنہوں نے عوام کو بامقصد اور اخلاقی اقدار سے مزین تفریح دی اور صرف یہی نہیں بلکہ شعر و شاعری سے لگاؤ رکھنے والے لوگ بھی ان کے گرویدی ہیں اور آج بھی انہیں اپنا استاد مانتے ہیں۔ شاید یہی وجہ مجھے بھی آج ان کے بارے میں تحریر لکھنے پر مجبور کر رہی ہے.انسان کبھی بھی کسی دوسرے انسان کا ذہن و دل نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی سمجھ سکے گا.یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک دوسرے پر کفر کے

فتوے اور غداری کےلگاتے پھرتے ہیں۔چند دنوں پہلے عاطف اسلم کا ایک انٹرویو سننے کو ملا جس میں وہ اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کررہے تھے کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ خانہ کعبہ میں اذان دینا چاہیں گے.ایسے ہی اگر ہم طارق عزیز کی زندگی کو پرکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صرف مذہبی لبادہ اوڑھ لینے سے ہی انسان نیک نہیں بن جاتا بلکہ بہت سارے اور بھی حقوق اور فرائض ہوتے ہیں جنہیں ادا کرنا لازم ہوتا ہے
اب آپ طارق عزیز صاحب کو ہی لے لیجئے، کچھ لوگوں کی نظر میں شاید وہ سیدھے راستے سے ہٹ چکے تھے حالانکہ یہ وہ شخص تھے جن کا ہر پروگرام خدائے برتر کے نام سے شروع ہوکر پاکستان پائندہ باد پر ختم ہوتا تھا مگر نہیں وہ شاید کچھ لوگوں کے قریب پھر بھی قابل قبول نہیں تھے.حالانکہ ہم اگر اپنی روایات اور اسلاف کو دیکھیں تو ہمیں تو ایسی روایات بھی ملتی ہیں جہاں ایک بدکارہ کو صرف پیاسے کتے کو پانی پلانے پر اللہ نے اسے جنت عطا کردی تھی جبکہ طارق صاحب تو ایک کلمہ گو شخصیت تھے اور وہ اللہ کے کتنے قریب تھے
اَج دی رات میں کلّا وَاں
کوئی نئیں میرے کول
اَج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول
ؔطارق عزیز
طارق عزیز صاحب تو ایک شخص ہیں بلکہ اگر ایک عہد کہا جائے تو غلط نا ہوگا، ان کے علاوہ بھی کتنے ایسے

لوگ ہیں جنہیں مذہبی حلقوں کی جانب سے نا صرف ناپسند کیا جاتا ہے بلکہ تنقید بھی شدید قسم کی ہوتی ہے جبکہ ہمارا دین تو وہ ہے جو ہر ایک کو جوڑنے کی بات کرتا ہے تو پھر ہم کیسے کسی کو اپنے سے دور کرسکتے ہیں.خدا کا واسطہ ہے ، جتنی محنت ہم کسی کو دور کرنے میں لگاتے ہیں، اگر اس کا کچھ حصہ بھی ہم کسی کو قریب کرنے میں گزار دیں تو نجانے ہمیں اپنے ہی اردگرد کتنے ہیرے موتی مل جائیں گے یا پھر ہم صرف ان کے ہیروں کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ہی انہیں یاد کرکے ہاتھ ملتے رہ جائیں۔
خدا ہم سب کو ایک اور نیک ہونے کی توفیق دے
پاکستان پائندہ باد