صائمہ اشرف
غلط سیاستدانوں یا کرپٹ لوگوں کے لیے ایوانوں میں آ جانے سے عوام کو کیا فائدہ۔۔۔۔بس یہ ہوا کہ ہر انسان سیاست پر سیر حاصل بحث کرنے کا ماہر ہو گیا بلکہ وہ اپنی مفید ماہرانہ رائے کو بھی ملک کے لیے

لازم و ملزوم خیال کرنے لگا۔
تمام تجربہ کار صحافیوں کا کام بھی بس صرف یہی رہ گیا ہے کہ وہ ہر Non -Scence Issue پر بحث برائے بحث کریں۔ ۔۔۔نا کوئی بہتر تجویز، نہ کوئی مثبت تنقید، نہ ملکی ترقی پر کوئی تبصرہ ۔۔۔۔صرف اور صرف پیسوں کا حصول مقصد حیات رہ گیا ہے ۔
کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیایہ سیاست ہے؟ کیا ان سب کا تجربہ، انکی ذہانت ان کی عمر انکی عمر بھر کی

ریاضت انہیں زیب دیتی ہے کہ یہ سب کچھ کیا جائے اور وہ بھی صرف پیسوں کے لیے؟
کیا ہمارے ملک میں مثبت تنقید، ماہرانہ رائے یا مثبت سوچ بالکل ختم ہو گئی ہے۔
کیا یہ تمام تجربہ کار سینئر صحافی اس با ت پر اپنے آپ کو مطمئن یا بری الذمہ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ان کے خوابوں کا حصول ہے؟کیا یہی ان کی سنیارٹی کی ڈیمانڈہے؟