راجہ حسن اختر
غلام قوموں کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں، غلام قوم کے انداز فکر اور سوچ کا اپنا انداز ہوتا ہے ، غلام قومیں عموما اپنے آقا¶ں کی طرف دیکھتے ہیں جیسا اپنے آقا کو کرتے دیکھتے ہیں ویسا ہی کر گزرتے ہیں- ان میں سب سے بڑا عقل مند اور مفکر اور روشن خیال وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا کی ہو بہو نکل کرکے دکھا دیتا ہے ، ہمارے ہاں بھی پاکستان میں ترقی پسندوں اور روشن خیال مفکر وں اور مریدوں کا یہ ہی حال ہے ،

کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا کے مصداق یہ لوگ  اپنا چہرہ چپیڑوں سے سرخ کرلیتے ہیں، پاکستان میں ہر سال عورت مارچ آتا ہے اور اپنے نشان چھوڑ جاتا ہے ، پوری دنیا یہ یوم مناتی ہے اور بڑھے آرام سے یہ گزر جاتا ہے ، مغربی دنیا اور مغریبی معاشرہ جہاں خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے جہاں لوگ رشتہ داریوں کو بھول چکے ہیں جہاں انسانیت دم توڑ چکی ہے جس معاشرے میں جوائنٹ فیملی کا تصور ختم ہوچکا ہو،وہاں خواتین کا دن منایا جاتا ہے ، وہاں مدر ڈے اور فادر ڈے منایا جاتا ہے -مغرب اپنی تباہ شدہ سوسائٹی کو پھر سے دوبارہ فیملی لائف کی طرف لانا چاہتا ہے اس لیے وہ مختلف موقعوں پر

مختلف دن منا کر اس رشتہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ہر دن خواتین کا دن ہوتا ہے پاکستان میں ابھی تک مشرقی اقدار زندہ ہیں اور ویسے بھی مشرقی اقدار کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا بھی اثر ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک جائینٹ فیملی سسٹم قائم ہے ۔
پاکستان میں جتنے لوگوں کو میں جانتا ہوں یا جس سوسائٹی میں بھی مجھے جانے کا اتفاق ہوا ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو یا متوسط طبقے سے ہو ہر طبقے میں اس بات کو دیکھا ہے کہ ہر شخص اپنی بیٹی کے ساتھ بے پناہ محبت کرتا ہے وہ اپنی بیٹی کو گڑیا، شہزادی اور بیٹا کہہ کر پکارتا ہے والد اور بھائی کی طرف سے ہر لڑکی یہ محبت سمیٹ رہی ہوتی ہے اور شادی کے بعد جب وہ بیوی بنتی ہے تو بچہ پیدا کرنے کے بعد اسے ایک ماں کی محبت اور عزت ملتی ہے – اسلام نے عورت کو مقام عروج دیا- ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جنت ماں کے قدموںتلے ہیں، یعنی ایک عورت کو اللہ نے ایسا مقام و مرتبہ دے دیا کہ ایسا مرتبہ کسی اور

مذہب نے نہیں دیا، دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ تہذیب میں اور روشن خیال معاشرے میں اسکی مثال نہیں ملتی- ایسے خوبصورت اور بے مثال الفاظ مجھے کوئی معاشرے ، مذہب میں ڈھونڈ کے دکھائے جس میں کہا گیا ہو کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، ایسا مقام و مرتبہ نہ کسی ملک کے آئین و قانون نے دیا نہ کسی مذہب نے دیا، اور کیا چاہیے۔مرد کو عدل و انصاف میں کوتاہی کی وجہ سے دوسری شادی سے منع کیاگیا ہے اور پھر بھی اگر کوئی بندہ دوسری شادی کرتاہے اور اگر وہ دو بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کرتا تو اس کو وارننگ دی گئی ہے کہ روز قیامت اس کا جسم فالج زدہ ہوگا آپ سوچ سکتے ہیں عورتوں کے حقوق سے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی اور مثال کسی مذہب یا کسی معاشرہ میں پائی جاتی ہے ، پاکستان میں اگر بعض علاقوں میں قرآن سے شادی کردی جاتی ہے تو یہ اس علاقے کے غیر اسلامی رسوم و رواج ہیں ان کا اسلام سے مسلمان معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اسی طرح ہندووانہ سوچ کی طرح عورت کو صرف جہیز دیا جاتا ہے ، جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا یہ بھی ہندوانہ رسم ہے جبکہ اسلام نے عورت کا جائیداد میں حصہ رکھاہے ، ونی کی رسم اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل و غارت کا تعلق ان علاقوں کے لوگوں کے فرسودہ خیالات اور رسوم و رواج سے ہے نہ کہ اسلام سے – مغرب زدہ اور آزاد خیال غلام ذہن رکھنے والے محض اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے یہ سارے کام انتہائی محنت سے کررہے ہوتے ہیں- پاکستان میں خواتین محفوظ ہیں، پاکستان میں عورت کی عزت ہے وقار ہے – مغرب میں عورت غیر محفوظ ہے تنہا ہے ، خدارا پاکستان کے معاشرے کو تباہ نہ کریں پاکستان کے لوگ اپنے معاشرے سے اپنی تہذیب و تمدن سے خوش ہیں۔ پاکستان عورت کے لیے محفوظ ہے اور اگر کوئی برائی ہے تو یہ برائی مغرب کی نسبت بہت کم ہے –
نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں