صائمہ اشرف
قطع نظر اس ساری بحث کے جو جو کچھ بھی عورت کے بارے میں کہا اور بولا گیا ۔ تو اس بارے میںبس اتنا ہی
میں اگر آج زدپہ ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گےہوا کسی کی نہیں
ٓآج آپ کسی کو نہیں مان رہے تو کیا وہ آپ کو مانے گی ؟

اگر ہم اس کو دوسرے نقطہ نطر سے یا یوں کہہ لیں کہ مرد کے زاوئیے سے دیکھیں تو ۔۔
کیا چاہتا ہے مرد ہمیں سر نگوں کر کے اپنی مرضی کے مطابق چلا کر کونسا تمغہ کونسا ایوارڈ لیناچاہتا ہے؟ جب عورت کو مٹی کا مادھو ہی سمجھ لیا تو برتری کس پر ثا بت کرنی ہے ۔ دوسرا کوئی فریق ہے ہی نہیں!
ہار جیت کا مقصد ہی ختم ہو گیا برتری ماننے والا کوئی بھی نا ہو تو کس کام کی جیت !