مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 کی مردم و خانہ شماری کے نتائج کی اصولی منظوری دیدی
اسلام آباد (نیوز رپورٹ) مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 کی مردم و خانہ شماری کے نتائج کی اصولی منظوری دیدی ہے جبکہ ایل این جی ٹو پاور پلانٹ پرائیوٹائز کرنیکی بھی منظوری دی گئی ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں بڑھتی ہوئی شرح آبادی کو نوٹس لیتے ہوئے اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ مراد علی شاہ، عثمان بزدار ، جام کمال اور محمود خان شریک ہوئے جب کہ وفاقی و صوبائی وزراء سمیت سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ شماریات نے2017 کی مردم وخانہ شماری کے نتائج پر سمری پیش کی جب کہ اس دوران سندھ، فاٹا اور مختلف علاقوں کے 5 فی صدبلاکس کی دوبارہ مردم شماری بھی زیر غور آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 کی مردم وخانہ شماری کے نتائج کی توثیق کرتے ہوئے اس کی اصولی منظوری دے دی ہے۔دوسری جانب مشترکہ مفادات کونسل کے اعلامیے کے مطابق کونسل نے 1230 میگاواٹ کیحویلی بہادرشاہ منصوبے اور 1223 میگاوواٹ کے بلوکی ایل این جی کے منصوبے کی بھی منظوری دی۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بڑھتی آبادی پر کنٹرول کرنے کی سفارش جلد پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے آبادی میں 2.4 فیصد سالانہ شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک کی آبادی 207.8 ملین ہے۔ نیشنل ٹاسک فورس کے سربراہ وزیراعظم اور صوبوں میں وزرائے اعلیٰ ٹاسک فورسز کے سربراہ ہوں گے۔ ٹاسک فورسز کے قیام کا عمل 48گھنٹوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔