طیبہ بخاری
میں کیوں تمہیں سردار چُنوں
میں کیوں تمہیں ہر بار سُنوں
تم جھوٹے وعدے کرتے ہو
غاصب بھی ہو ، غدار بھی ہو
آمر بھی ہو ، زردار بھی ہو
یہ ظلم میں کیوں ہر بار سہوں
میں کیوں تمہیں سردار چُنوں
میرے ووٹ کو تم نے لوٹا ہے
یہ ملک بھی تم سے ٹوٹا ہے
اے رہزن مجھ کو یہ تو بتا
دشمن سے بچوں یا تجھ سے لڑوں
میں کیوں تمہیں سردار چُنوں
اغیار کے ہاتھوں بِک گئے تم
کئی نسلوں کا بیوپار کیا
ملت کو کیا پارہ پارہ
اور وحدت کو پامال کیا
تم سُولی چڑھویا جل کے مرو
میں کیوں غم کا اظہار کروں
میں کیوں تمہیں سردار چُنوں
میں کیوں تمہیں سردار چُنوں