گلگت بلتستان میں حافظ حفیظ الرحمان کی منتخب صوبائی حکومت اپنی مدت پوری کرچکی ہے۔اپنے پانچ سالہ دور میں حفیظ سرکار نے کئی میگا پراجیکٹس پہ کام کیا جس میں گلگت سکردو روڈ بھی شامل ہے۔محکمہ تعلیم سمیت کئی اداروں میں اصلاحات اور تقرریوں میں میرٹ کی پاسداری اور کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کئے گئے بہترین اقدامات سے جہاںعوامی حلقوں میں ان کی پذیرائی ہوئی وہیںمسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت کو کئی اہم معاملات پہ کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا جس میںجی بی آرڈر 2018، ٹیکس کا ایشو، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ،دیامر اور بلتستان ریجن کو نظرانداز کرنے اور آئینی حقوق کے حصول کے لئے ناکافی اقدامات قابل ذکر ہیں۔
گلگت بلتستان ابتدا ءہی سے اپنے جداگانہ کلچر، جغرافیائی اور دفاعی حیثیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا محور رہا ہے۔اوربد قسمتی سے یہاں کی عوام کے حقوق میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھی اس خطے کا اہم ہونا ہے۔یہ خطہ چین ، بھارت اور پاکستان میں منقسم ہے۔گلگت بلتستان میں نئے الیکشن ہونے کو ہے گو کہ اس کا باقاعدہ اعلان ہونا ابھی باقی ہے مگر سیاسی جماعتیں انتخابات میں بھرپور طریقے

سے حصہ لینے کے لئے پر عزم ہیں۔ساتھ ہی بد قسمتی سے ایک طرف کورونا وائرس عالمی وبا ءکی شکل اختیار کرچکاہے۔ جبکہ دوسری طرف خطے کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلیاں دستک دے رہی ہیں۔چین اور بھارتی افواج کے درمیان لداخ اور اقصائی چن میںکافی عرصے بعدسخت تناﺅ کی کیفیت ہے۔ حال ہی میں ہونے والی مسلح جھڑپیں، جس میں بھارتی کرنل سمیت 20 سے زائدفوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں ہیں۔بھارتی سمندری حدود کو چیرتی چینی جنگی بحری بیڑے اور عالمی تھانیدار امریکہ کی جھڑکیاں ایک نئے طوفان کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جبکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی کافی کشیدہ ہے۔ ایسے میں انتخابات چھ مہینے یا ایک سال کے لئے ملتوی بھی ہوسکتے ہیں اگرچہ صوبائی حکومت سمیت اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کے بروقت انعقاد کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔ اس ضمن میں نگراں حکومت کے قیام کے لئے بھی مختلف حلقے متحرک نظر آتے ہیں۔کچھ دن پہلے نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک سابق بیوروکریٹ شاہداللہ بیگ صاحب کا نام منظر عام پہ آیا یا لایا گیا۔حالانکہ حکومتی بنچ یا اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس وقت کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا۔ البتہ بعض حکومتی ارکان کی طرف سے اس حوالے سے بیانات اور آرٹیکلز لکھے گئے تھے۔لیکن حیران کن طور پر مسلم لیگ( ن) اور تحریک انصاف کا اس بارے میں یکساں مو¿قف سامنے آیا۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ ساز ادارے عوامی ردعمل کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہوں اور گلگت بلتستان کے

عوام نے بھی انہیں بالکل بھی مایوس نہیں کیا بلکہ شاہداللہ بیگ کے خلاف بھرپور عوامی ردعمل سامنے آیا۔گلگت بلتستان کی ایک اکثریتی آبادی نے ان کی تقرری کونہ صرف مسترد کیا۔بلکہ اس سے گلگت بلتستان کے امن و امان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ۔تاہم گزشتہ دنوں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے جمہوری روایات کی روشنی میں باضابطہ طور پر نگراں وزیراعلی کے لئے 13,13 نام پیش کئے گئے ہیں ۔ فریقین کی طرف سے پیش کئے گئے ناموں میں دو نام مشترک ہیں اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ انہی دو ناموں میں سے ایک نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے فائنل ہوجائے گا۔مگر بعض حلقوں کی طرف سے تمام جمہوری روایات کو پس پشت ڈال کر،حکومتی اور اپوزیشن کی طرف سے پیش کئے گئے مشترکہ ناموں کو چھوڑ کر صرف اور صرف شاہداللہ بیگ صاحب کے نام پہ اصرار نہ صرف جمہوری روایات کے منافی ہے بلکہ گلگت بلتستان میں نہ ختم ہونے والے تنازعے کابیج بونے کے مترادف ہے۔اگر مقتدر حلقوں نے اپوزیشن اور حکومتی متفقہ ناموں کی بجائے اپنی پسند ناپسند سے نگراں حکومت لانے کا فیصلہ کیا تو عوام اور خواص کے ذہنوں میںموجود بہت سے شکوک و شبہات کو تقویت ملے گی۔ جو کسی بھی طرح سے گلگت بلتستان، وفاق اور بدلتے حالات کے حق میں نہیں۔یہاں کی عوام 7 دہائیوں سے بدترین محرومیوں کا سامنا کررہے ہیں۔یہاں کی عوام 72سالوںسے اپنی شناخت کے منتظر ہیں۔یہاں کے باسی محب وطن ہیں مگر مقتدر طبقوں کی طرف سے اس طرح کے اقدامات سے باہمی اعتماد کو انتہائی شدید

اورناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔گلگت بلتستان میں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ شیڈول فور لگتا ہے۔ یہاں افسر شاہی سے تنازعے کی قیمت دہشت گردی کی دفعات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔یہاں کی عوام کی کہیں سنوائی نہیں ہوتی، محفوظ سفری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے پیارے کبھی روڈ حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں تو کبھی وحشی درندوں کا۔۔ 80 فیصد سے زائد جوان پڑھے لکھے ہیں مگر انہیں روزگار کے مواقع میسر نہیں۔۔۔ یہاں میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج سمیت کوئی ٹیکنکل تعلیمی ادارہ نہیں۔۔۔یہاں کے گاﺅں دیہات زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے تعلیم، صحت، صاف پانی سے محروم ہیں۔۔۔لیکن ان تمام محرومیوں کے باوجود یہاں کے باسی اپنے وجود سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو جو خوشی اور رونق آپ گلگت بلتستان میں مشاہدہ کرتے ہیں وہ پورے پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن اس سب کے باوجود محسوس یہی ہوتا ہے کہ بعض مقتدر افراد یا ادارے نہیں چاہتے کہ یہاں کے باسی یکجا ہوں۔پاکستان کے دوسرے صوبوں کے برعکس یہاں کے حکمرانوں کے پاس نمائشی یا علامتی اختیارات ہیں مگر اس کے باوجود یہاں اقتدار اور اختیارات کی تقسیم کا فارمولا مسلک کی بنیاد پرطے کیا جاتا ہے۔۔ اور اس میں بھی آبادی کے حساب سے اکثریتی طبقے کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔یہاں مسلکی بنیاد پر اختیارات کی تقسیم کا یہ مکروہ اور قبیح عمل بھی ہے۔

خدارا حالات کی نزاکت سمجھیں۔ ہم ماضی میں عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنے کی سزا سقوط ڈھاکہ کی صورت میں بھگت چکے ہیں۔ضروری نہیں کہ حادثات ایک دم سے وقوع پذیر ہوں۔بقول شاعر:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یہاں کے محروم، محکوم،مجبور اور پرامن عوام کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔ حکومتی بینچ اور اپوزیشن کی طرف سے بھیجے گئے سفارشات کا احترام کریں۔اور مستقبل میں بھی اختیارات اور عہدوں کو مسلکی بنیاد پہ تقسیم کرنے کی بجائے الیکشن جیتنے والے سیاسی پارٹی پہ چھوڑ دیں ۔عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں اور انہیں یہ حق دیں کی وہ کسی بھی دباﺅ سے آزاد ہوکر حکومت سازی کریں۔انہیں حق دیں کہ وہ مذہبی بنیادوں سے بلند ہوکرخالصتاً جمہوری تقاضوں اوراصولوں کی روشنی میں حکومت تشکیل دیں۔ بصورت دیگر یہاں کی عوام کی بے چینی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوگا۔ بقول میر تقی میر:
یاں کے سپیدوسیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریںہیںہم کو عبث بدنام کیا
اللہ وطن عزیز پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں