لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے تمام تبصروں اور تجزیوں کے برعکس سیاسی بازی مار لی، انہوں نے عام انتخابات کرانے کا جو جوا کھیلا تھا وہ اس میں کامیاب رہے، اب

انکی کنزرویٹو پارٹی نے برطانوی دارالعوام میں 80 نشستوں کی اکثریت حاصل کرلی ہے اور یہ کنزرویٹو پارٹی کی 1987 کے بعد سب سے بڑی فتح ہے۔الیکشن حکام کے مطابق اب چند نشستوں کے نتائج کا اجرا باقی ہے۔ اب تک اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی نے 365 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔جبکہ بورس جانسن حکومت کی سب سے قریبی حریف، لیبر پارٹی 203،

نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، اسکاٹش نیشنل پارٹی 48، لبرل ڈیموکریٹ نے 12اور ڈی یوپی نے 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کی جیت اور ان نتائج کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ یہ کئی عشروں میں پارٹی کو ملنے والی بڑی ڈرامائی فتح ہے۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ وزیراعظم نے الیکشن میں جو حکمت عملی اپنائی اور عوام سے جو وعدہ کیا وہ صرف ایک نکتے پر مبنی تھا کہ بریگزٹ کرنا ہے۔ دوسری جانب یہ لیبر پارٹی کے لیے بڑی تباہ کن شکست ہے، پارٹی لیڈر جریمی کوربن نے شکست کے بعد کہا کہ وہ پارٹی قیادت چھوڑ دینگے۔ جبکہ یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں کام کرنے والی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کی لیڈر جو سونسن نے تو اپنی نشست بھی کھودی۔کامیابی کے بعد وزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ الزبتھ سے ملاقات کی .