نیو یارک ( ارشد چودھری سے )بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ سوچتے کچھ ہیں اور ہوتا کچھ ہے ، شائد کورونا کے حوالے سے بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے . اس موذی وبا سے ہر کوئی بچنا چاہتا ہے اور ہر ملک اس کوشش میں ہے کہ وہ سب سے پہلے ویکسین تیار کر لے ، لیکن ان کوششوں میں ہو کچھ اور ہی رہا ہے . خبر یہ ہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا ویکسین بنانے کی دوڑ کی وجہ سے عالمگیر وبا کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔پوری دنیا میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے اب تک 2 کروڑ 54 لاکھ سے

زائد افراد متاثر ہوچکے اور 8 لاکھ 51 ہزار سے زائد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔اپنے اپنے ممالک میں کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پھر ان سے ہونے والی شرح اموات کے بعد کئی ممالک کی جانب سے وائرس کی ویکسین تیاری شروع کردی گئی۔اسی طرح کئی ممالک کی لیباریٹریز کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ انھوں نے ویکسین تیار کرلی ہے جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ ویکسین کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔
تاہم اب آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوویڈ-19 کے علاج کے لیے ویکسین بنانے کی دوڑ کی وجہ سے یہ وبا مزید پھیل سکتی ہے۔ماہرین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو تجویز دی ہے کہ یہ غیر مؤثر دوا بغیر دوا کے ٹھیک ہوتے مریض کی حالت مزید خراب کردے گی۔غیر ملکی ویب سائٹ کے

مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کر ڈالا کہ امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ہی کورونا وائرس کی ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی موثر ویکسین کو ریگولیٹر عمل سے گزارنے کے لیے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرے گا۔تاہم اس کے باوجود ماہرین ڈبلیو ایچ او کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکام نے ویکسین کی جانچ کرنے میں غلطی کی تو کوئی بھی کم مؤثر دوا درحقیقت کوویڈ-19 وبا کی صورتحال کو مزید خراب کردے گی۔انھوں نے عالمی ادارے کو تجویز دی کہ مریضوں پر استعمال سے قبل ویکسین کا علاج کے مشاہدے میں کم از کم 50 فیصد درست ہونا ضروری ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ وباء پروفیسر سر رچرڈ پیٹو کا کہنا تھا کہ ویکسین کے استعمال کی منظوری مستقبل میں دیگر ادویات کے لیے ایک خراب معیار ترتیب دے سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت ویکسین کی ضرورت ہے، تاہم بہتر اور درستی کے ساتھ یہ ویکسین جلد آجائے گی۔