(درد نگر سے )
تحسین بخاری


میں نے جیسے ہی اپنی گاڑی دفتر کے باہر کھڑی کی اور سیڑھیاں چڑھنے لگا تو پیچھے سے آنے والی آواز نے میرے قدم روک دیے، مڑ کر دیکھا تو یہ پچاس سال کے لگ بھگ ایک خاتون تھی ،اس خاتون کی اتنی عمر نہیں تھی جتنی وہ نظر آ رہی تھی، اس کی شخصیت کے آنگن سے تازہ تازہ ہجرت کرنے والی خوشگوار صحت کے پاﺅں کے نشانات چہرے پر پڑنے والی جھریوں کی صورت میں عیاں تھے ،دوپٹے کے اطراف سے جھانکتے کالے بال سفیدی کیطرف سے زبر دستی قبضہ کرنے کی کوشش کے خلاف سراپا احتجاج تھے ،دنیا جہان کی گرد سے اٹے پاﺅں میں چپل تھی، چپل کا رنگ اگرچہ لال تھا مگر اپنی مدت پوری کرچکنے کے باعث یہ رنگ چپل کا مزید ساتھ نبھانے سے صاف انکاری تھا ،دائیں پاﺅں والی چپل کے بائیں طرف والے ٹوٹے ہوئے حصے کو جس دھاگے نے پتہ نہیں کب سے پاﺅں کا ساتھ نبھانے کیلیے زبردستی جکڑ رکھا تھا اب وہ دھاگاخود اپنی بقاءکی جنگ لڑتا نظر آرہا تھا، دوپٹے کو سامنے والے حصے پر ٹاکی لگی تھی ،چہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ خوشحالی کو رخصت ہوئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں بیتا ،حالات کی بے رحمی اس کی زندگی کی آسائیشوں پر قابض ہوئی تو اس بی بی کو اپنی زندگی کی سفیل پر سجے سارے سکھ ،روح کی سیف الماری میں پڑے سارے سکون چہرے کی تمام تر رعنائیوں سمیت تاوان کے طور پر ادا کرکے محض اپنی سانسیں وصول کرنا پڑیں ۔میں نے اس بی بی سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ بی بی آپ نے مجھے آواز

دی ہے ؟ اثبات میں سر ہلاتے ہو بولی جی میں آپ کے پاس ایک کام آئی ہوں۔ میں نے اسے اوپر آنے کو کہا وہ میرے دفتر آ گئی ،میں نے آفس بوئے کو چائے کا کہا اور خود اس بی بی سے حال احوال شروع کر دیا ،وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی ،سر سے سرکتے دوبٹے کا پلو سیدھا کرتے ہوئے بولی میرا نام صغری بی بی ہے میں ظفر آباد محلہ کی رہائشی ہوں،میرا شوہر تین سال قبل فوت ہو چکا ہے میری چار بیٹیا ہیں ،ایک بیٹی جوان ہے باقی تین چھوٹی ہیں میں سارا دن لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے اپنا گھر چلاتی ہوں میں نے ایک ایک پائی جوڑ کے اپنی بیٹی نازوکیلیے آدھا تولہ زیوربنایا تھا بیٹی کی رخصتی کے دن رکھے جا چکے ہیں میں نے تین دن قبل ایک بینک سے یہ سوچ کر ستر ہزار روپے کا قرض لیا کہ بیٹی کا جہیز خریدوں گی اور پھر ہر ماہ تھوڑے تھوڑے پیسے اتارتی رہوں گی ، ماجو نامی لڑکا جو میری بیٹی کا رشتہ مانگتا تھا مگر میں نے وہاں اس لیے رشتہ نہ کیا کہ وہ ایک نشئی ہے، اسے جب پتہ چلا کہ میر ی بیٹی کے دن طے پا گئے ہیں تو میری غیر موجودگی میں میرے گھر گھس آیا پسٹل کے زور پر میری بیٹی سے صندوق کی چابیاں چھین کر پیسے اور زیورات لے گیا ہے اور جاتے ہوئے کہا کہ اپنی ماں کو پیغام دے دینا کہ وہ تیرا رشتہ مجھے دے دے تو ٹھیک ورنہ یہ زیور اور پیسہ کبھی نہیں ملے گا اور اگر کارروائی کرنے کی کوشش کی تو تجھے زبردستی یہاں سے اٹھا کرلے جاﺅں گا۔
صغری بی بی کی زخمی اور پریشان روح سے سفر کرنے والے دو آنسو غم زدہ آنکھوں کا بند توڑ کر اس کے رخصار تک پہنچ چکے تھے ،وہ کہتے ہیںنا کہ پریشان راستوں کے مسافروں کا استقبال صدق دل سے کرنا

چاہیے تو میری آنکھوں کے آنگن میں کھیلتے دو آنسو ﺅ ں نے فورا پلکوں کی دہلیز پہ آ کر ان کا استقبال کیا ۔اس نے دوپٹے کے پلو اور میں نے جیب میں پڑے رومال سے اپنے اپنے آنسوﺅں کو جذب کیا ،اس نے ٹیبل پرپڑا پانی کا گلاس اٹھایا ،پانی کے گھونٹ سے گلے میں اٹکے آنسوﺅں کے گولے کو حلق میں اتارنے کے بعد دوبارہ بولی پیر سائیں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ آپ سید زاد ے ہیں اور ہم پیر پرست لوگ ہیں آپ مجھے کوئی ایسا تعویذدیں جس سے وہ خود آ کر میرا زیور اور پیسے واپس کر دے ورنہ میں کسی کو کیا منہ دکھاﺅں گی تین ہفتے بعد تو میری بیٹی کی شادی ہے ۔میں نے کہا ٹھیک ہے بی بی آپ بے فکر ہو جائیں آپ کو ایسا تعویذ دوں گا کہ اللہ اس کے توسط سے آپ کی ساری پریشانی ختم کر دے گا،یہ سنتے ہی اس کے مرجھائے چہرے کے درخت پر ڈیرہ ڈالے پریشانی کے پرندوں نے اڑنے کیلئے پر مارنا شروع کر دئیے ،میں نے کہا بی بی تعویذ تو آپ کو میں لکھ کر دے دیتا ہوں مگر اس تعویذ میں جان ڈالنے کیلئے آپ کو

میری بتائی ہوئی ایک اور جگہ پر جانا ہو گا ،بولی میں ضرو ر جاﺅں گی بس میرا کام ہو جائے۔
میں نے ایک کاغذ منگوایا اس پر ایک درخواست لکھی اور کہا کہ آپ ابھی ڈی پی او آفس چلی جائیں وہاں جا کر ڈی پی او کے پاس پیش ہو جائیں انشااللہ آپ کا کام ضرور ہو جائے گا وہ،کہنے لگی نہ پیر سائیں نہ وہ ماجو حرامی لڑکا ہے محلے والے سارے اس سے ڈرتے ہیں پولیس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی وہ الٹا مجھے نقصان پہنچائے گا ،آپ نے تعویذ دینا ہے تو دیں ورنہ میں گھر چلی جاتی ہوں، میں نہیں جاﺅں گی پولیس شولیس کے پاس،اور پھر میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تو میںکہاں سے اتنے پیسے لاﺅں کہ پولیس کو دوں ۔میں نے کہا بی بی آپ جائیں تو سہی جہاں پیسوں کی ضرورت پڑے تو آپ مجھے بتا دینا پیسے میں آپ کو دے دوں گا ۔کہنے لگی پھر آپ میرے ساتھ چلیں میں نے کہا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں، میں نے گاڑی نکالی اس کو ساتھ بٹھایا اسے ڈی پی او آفس رحیم یار خان کے گیٹ پر چھوڑا اور خود کسی ایمر جنسی کا بہانہ بنا کر واپس دفتر آ گیا ،دو بجے یہ بی بی میرے دفتر واپس آ گئی ،میں نے کہا سنائیں بی بی، ہاتھ میں پکڑی چھوٹی

سی چٹ دکھا کر کہنے لگی جو کاغذ آپ نے دیا تھاوہ تو اس نے خود رکھ لیا ہے پر یہ چٹ مجھے پکڑائی ہے اور پیر سائیں وہ جو افسر بیٹھا تھا نا اس نے پورے پانچ منٹ تک میری بات سنی ،میں نے اپنی ساری داستان سنائی تو کہنے لگا بی بی فکرنہ کر، تو اپنی بیٹی کی شادی کی تیاری کر جہیز جانے اور میں جانوں اور پیرسائیں وہ کسی کو فون پر کہہ رہا تھا کہ صغریٰ بی بی کو آپ کے پاس بھیج رہاہوں اس کا مسلہ ہر صورت میںحل کر کے مجھے بتاﺅ اور یہ بی بی دوبارہ میرے پاس نہ آئے اور مجھے کہا کہ بی بی اگر آپ سے کوئی پیسے مانگے تو آپ مجھے آکر بتانا ،میں نے چٹ دیکھی تو یہ تھانہ سی ڈویژن کو بھیجی گئی درخواست کا نمبر تھا میں نے کہا کہ بی بی آپ کل تھانے جا کر یہ پرچی دکھانا ،وہ اٹھ کر چلی گئی چاردن بعد میرے دفتر دوبارہ آئی اپنے موبائل سے ایک نمبر دکھاتے ہوئے بولی کہ اس نمبر سے فون آیا ہے کہ میں سی ڈویژن سے ایس ایچ او بات کر رہاہوں آپ کل گیارہ بجے ڈی ایس پی سٹی کے دفتر آ جا نا ،ابھی یہ بی بی وہاں بیٹھی ہی تھی کہ مجھے ڈی پی او صاحب کے پی آر او زیشان رندھاوا کی کال آگئی کہ کل گیارہ بجے ڈی ایس پی سٹی کے دفتر میں ڈی پی او صاحب کی پریس کانفرنس ہے آپ کو پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کی دعوت دینا تھی۔ اگلے دن میں پریس کانفرنس میں پنہچا تو یہ بی بی مجھ سے پہلے وہاں موجود تھی مجھے دیکھ کر بولی پیر سائیں اب کیا کرنا ہے ،میں نے کہا خاموشی سے آپ کرسی پر بیٹھی رہیں ،کچھ دیر بعد ڈی پی او منتظر مہدی صاحب آگئے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے کچھ جرائم پیشہ عناصر کو پکڑا ہے ان سے ستر لاکھ کے قریب نقد رقم اور بیس

تولہ کے قریب زیورات برآمد ہوئے ہیں جو ہم نے اصل مالکان کے حوالے کرنے ہیں، اس کے بعد ریکوری حوالے کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو پانچویں نمبر پر صغریٰ بی بی کا نام پکارا گیا ،منتظر مہدی نے پوچھا بی بی آپ کا کیا سامان چوری ہوا تھا بولی آدھا تولہ زیور اور ستر ہزار نقد رقم، منتظر مہدی نے زیور اور رقم اس کے حوالے کرتے ہو ئے کہا کہ بی بی ایک روپیہ بھی کم نہیں ہے آپ کے زیور اور پیسے پورے کے پورے ہیں ۔صغری ٰبی بی اپنا ساما ن وصول کرنے کے بعد سائیڈ پر جا کھڑی ہوئی اور اشارے سے مجھے اپنی طرف بلاکر کہا پیر سائیں باقی لوگ تو اس افسر کو ہار پہنا رہے ہیں مگرمیرے پاس تو ہار نہیں ہے آپ رکیں میں باہر سے ہار لے کر ابھی آتی ہوں یہ بی بی تھوڑی دیر بعد ایک گلدستہ لیکر آئی تو تب ڈی پی او منتظر مہدی صاحب جا چکے تھے ،اس نے گلدستہ میرے حوالے کیا اور روانہ ہو گئی
صغر یٰ بی بی نے جو گلدستہ میرے حوالے کیا ´ اس کا اصل حقدار میں نہیں بلکہ آئی جی پنجاب ہیں، اس کا حقدار آر پی او بہاولپور ہے ا س کا حقدار ڈی پی او رحیم یار خان منتظر مہدی ہے اور اس گلدستے کا حقدارکسی مجبور اور دکھی انسانیت کے آنسو پونچھنے والا ہر دیانتدار اور فرض شناس آفیسر ہے ۔صغریٰ بی بی کیطرف سے پنجاب پولیس کیلیے لایا گیا یہ گلدستہ میرے پاس امانت تھا لہٰذ اس گلدستے میں اپنی طرف سے محبت اور خلوص کے کچھ نئے پھولوں کے اضافے کے ساتھ میں اسے پنجاب پولیس کے سپرد کرتاہوں۔ منفرد خوشبو کے حامل اس گلدستے کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے پنجاب پولیس کا ہر آفیسر اگرڈی پی او رحیم یار خان منتظرمہدی کی طرح عقیدتوں اور محبتوں کے یہ گلدستے حاصل کرنے کا صدق دل سے تہیہہ کر لے تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کا ہر تھانہ گلدستوں سے بھر جائے اورپورا پنجاب خوشبو سے مہک اٹھے
نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں