درد نگر سے ……تحسین بخاری

  press7828@gmail.com


رائٹر اور قاری کا آپس میں رشتہ اعتماد کے نازک دھاگے سے جڑا ہوتا ہے ،کسی بھی لکھاری کے فن کو نکھارنے میں اس کے قاری کا بڑااہم کردار ہوتا ہے ، رائٹر کو اگر پڑھنے والا میسر نہیں تو پھر اس کی تحریر قوس و قزح کے سات رنگ رکھنے کے باوجود بھی بے نور ہوتی ہے ،خوش نصیب ہوتا ہے وہ قلم کار جس کو اس کے پڑھنے والے میسر ہوں ،قاری اپنے رائٹر پر اعتماد کرتا ہے اس لیے شعبہ صحافت سے وابستہ رائٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر معاملے میں اپنے قاری کوبروقت اور صحیح حقائق سے آگاہ رکھے اور اعتماد کے اس رشتے کی لاج رکھتے ہوئے کسی بھی معاملے میں زرہ بھر بد دیانتی کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ آج کے اس جدید دور کا قاری انتہائی با شعور ہے وہ اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ تحریر میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔میں خو د کو اس معاملے میں ان خوش نصیبوں میں شمار کرتا ہوں جن کو قارئین میسر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک رائٹر کے متعلق اس کے قارئین کو اس کی قلمی دیانتداری کا پختہ یقین ہو جائے تو پھر یہ رشتہ محبت میں بدل جاتا ہے ،محبت کا رشتہ انتہائی نازک رشتہ ہوتا ہے یہ بد اعتمادی کی ہلکی سی آنچ بھی برداشت نہیں کر پاتا ،لہٰذا میری بھی کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے قارئین کی طرف سے بخشے جانے والے محبت کے اس انمول پھول کو ہر طرح کی بد اعتمادی کی تپش سے محفوظ رکھوں ۔

قارئین محترم میں 18/5/2020کو میںنے ایک پوسٹ اپ لوڈ کی تھی جس میں ایک سینئر پولیس آفیسر کی طرف سے دھمکی بھرا پیغام موصول ہونے کی بات کی گئی تھی ۔
یہ ایشو کیا تھا ؟ اسکی تفصیل آپ سب قاابل احترام دوستوں کیلیے پیش خدمت ہے ۔
قارئین محترم ہوا یہ تھا کہ مجھے 18مئی2020 کو میرے ایک دوست نے بتایا کہ میں آج ایس پی انویسٹی گیشن رحیم یار خان کے پاس گیا اور بتایا کہ ایس ایچ او صدر صادق آباد نے میرے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک اختیا ر کیا ہے،ایس ایچ او کے ہتک آمیز سلوک کے دوران وہاں ایک سنیئر صحافی بھی موجود تھے ،ایس پی صاحب نے پوچھا کون سا صحافی ؟ تو میں نے کہا تحسین بخار ی ۔جس پر ایس پی صاحب نے کہا کہ اس کو تو ہم نے اب ویسے بھی اٹھا لینا ہے ،دو چار دن میں اس کا بندو بست ہو جائے گا۔مجھے جیسے ہی اس بات کا پتہ چلا اور اپنے زرائع سے اس بات کو کنفرم کرنا چاہا تو ایک اور زرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی،ایس پی فراز احمد صاحب کا گھرانہ علمی اور ادبی گھرانہ ہے میری اس گھرانے سے میری بیس سالہ پرانی رفاقت ہے ،خصوصااحمد بخش اشرف صاحب سے محبتوں کا الگ ہی رشتہ ہے ،فراز احمد صاحب جب سے یہاں تعینات ہوئے ہیں میری ان سے صرف دو ملاقاتیں ہیں اور میں کبھی بھی ان کے پاس کسی کام کیلئے نہیں گیا تاکہ وہ یہ محسوس نہ کریں کہ میں ان کے بزرگوں سے تعلقات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہاں ہوں،انھی تعلقات کے باعث مجھے دکھ بھی ہوا کہ فراز صاحب نے میرے متعلق اس طرح کے ریمارکس کیوں دیے ہیں ،لہٰذا میں نے فورا ًسوشل میڈیا پر یہ پوسٹ لگائی جس پر

محبت کا ثبوت دیتے ہوئے آپ سب احباب سمیت پاکستان بھر سے صحافی اور غیر صحافی دوستوں نے رابطہ کر کے نہ صرف میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ میرا خوب حوصلہ بڑھایا، ضلع رحیم یار خان کے ہر پریس کلب نے مکمل اور ہر طرح سے ساتھ نبھانے کاعہد کر کے میرے ساتھ دلی محبت کا اظہار کیا ،میں نے اسی روز ہی اپنی تنظیم نیشنل کالمسٹ کونسل کی چیرپرسن روزنامہ دنیا سنڈے میگزین کی انچارج طیبہ بخاری صاحبہ سے رابطہ کیا اور تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے کہا بخاری صاحب ہم نہ تو کمزور ہیںاور نہیں لاوارثے ،ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبانے کی ہر دور میں کوشش کی جاتی رہی ہے مگر سچ کی آوازکھی بھی دب نہیں پائی ،آپ نے بالکل نہیں گھبرانا، آپ کہیں تو میں ابھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیتی ہوں ۔میں نے کہا کہ بی بی آپ کا بے حد شکریہ ،فی الحال میرا مقصد آپ کے نوٹس میں یہ سب لانا تھا، ضرورت پڑی تو ہم نیشنل کالمسٹ کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی بلائیں گے اور پھر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا پڑا تو کریں گے ۔ان کے بعد میں نے آئی جی پنجاب کے انچارج میڈیا سیل ڈائریکٹر پبلک ریلیشن نایاب حیدر صاحب سے رابطہ کیا اور تما تر صورت حال ان کے سامنے رکھی ،انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ وجہ تو یہ پیغام بھجوانے والے خود وہی بتا سکتے ہیں میرے نالج میں تو ایسی کوئی بات نہیں ،تو انہوں نے کہا کہ آپ ایک بار آرپی او بہاولپور کے نوٹس میں یہ بات لائیں ۔ اگلے دن 19مئی 10/27منٹ پر آر پی او بہاولپور زبیر دریشک صاحب سے میں نے رابطہ کیا اور اس ساری صورتحال سے ان کو آگاہ کیا ، زبیر دریشک صاحب کا شمار بہت ہی اچھے اور دیانتدار افسران میں ہوتا ہے، انہوں نے کہا بخاری صاحب صحافی اور پولیس کا مشن

ایک ہی ہے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہے ہمارے درمیان فاصلے نہیں ہونے چاہیں میں ڈی پی او رحیم یارخان کے ذمے لگا دیتا ہوں وہ دیکھ لیتے ہیں اس معاملے کو، اگر ضرورت پڑے تو آپ پھر مجھ سے رابطہ کر لیجیے گا ۔ادھر کچھ ہی دیر بعد مجھے اپنے محبتوں بھرے پیارے دوست روزنامہ خبریں کے رحیم یار خان سے بیوروچیف میاں شہباز شریف صاحب کی کال آئی اور کہا کہ مجھ سے ڈی پی او صاحب کے پی آر او نے رابطہ کیا ہے کیا ایشو ہے ،میں نے بتایا کہ جناب یہ ایشو ہے، انہوں نے کہاکہ پی آر و احمد نواز چیمہ میرے اچھے دوست ہیں ان کی کال آئی تھی وہ کہہ رہے ہیں کہ مہربانی کر کے پوسٹ ڈیلیٹ کر دیں آپ کا جو بھی ایشو ہے آپ ڈی پی او آفس آجائیں اس ایشو کو مل بیٹھ کرحل کرتے ہیں ۔میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کہیں کر لیتے ہیں ،ایک گھنٹے بعد میاں شہباز شریف صاحب ڈسٹرکٹ پریس کلب آ گئے اور ہم ڈی پی او آفس چلے گئے ،احمد نواز چیمہ صاحب ابھی نئے نئے پی آر اوتعینات ہوئے ہیں اس لیے ابھی انہیں پریس کے دوستوں سے پوری واقفیت نہیں تھی ،میاں شہباز شریف نے اچھے انداز میں میرا تعارف کروایا ابھی اس ایشو پربات چیت ہو رہی تھی کہ اسی دوران مجھے آئی جی صاحب کے پی آرا و نایاب حیدر صاحب کی کال آ گئی اور پوچھنے لگے بخاری صاحب کیا بنا آپ کے ایشو کا ؟ حل ہوا کہ نہیں ۔میں نے بتایا کہ ہم اس وقت ڈی پی او آفس میں ہیں او ر پی آر و صاحب کو حال احوال بتارہے ہیں ،انہوں

نے کہا کہ میری بات کروائیں میں نے فون احمد نواز بھائی کو دیا ،نایاب حیدر صاحب نے احمد نواز بھائی سے جو بھی بات کی واللہ اعلم ۔پھر احمد نواز صاحب نے ڈی پی او منتظر مہدی صاحب کو ہماری آمد اور نایاب حیدر صاحب کی کال کے متعلق آگاہ کیا جس پر ڈی پی او منتظر مہدی صاحب نے کہا کہ ایک د دون تک ملاقات کا پروگرام رکھتے ہیں ،ہمارے اور پی آر او کے درمیان طے پایا کہ دودن تک اس کا حل نکالتے ہیں تب تک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جائے ،مگر میں نے پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ہائیڈ کر دی تاکہ اگر ہمارا مسئلہ حل نہ ہو ا توہم اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے ۔20مئی کی صبح مجھے نائب پی آر او ارشد نواز صاحب کی کال آئی کہ ڈی پی او صاحب کی ایک اہم کانفرنس ہے آپ نے لازمی شرکت کرنی ہے۔ میں مقررہ وقت پر ڈی پی او آفس چلا گیا پریس کانفرنس ختم ہوئی، ہم سب جانے لگے تو ڈی پی او منتظر مہدی صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا بخاری صاحب آپ نے جانا نہیں آپ کو جو تھریٹس ملے ہیں اس پہ بات کرنی ہے ،لہٰذا میں اور میاں شہباز شریف صاحب وہاں بیٹھ گئے ۔ڈی پی صا حب کے شمالی جانب ایس پی انویسٹی گیشن فراز احمدصاحب بیٹھے تھے ۔ڈی پی او منتظر مہدی کمال کے آفیسر ہیں کہنے لگے صحافی دوست ہمارا دست و بازو ہیں ہم نے ایک دسرے کے ساتھ چلنا ہے ہم نے کسی کو کیا دھمکیاں دینی ہیں،دھمکی اور وہ بھی ایس پی فراز احمد کے منہ سے ،یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ،انتہائی شریف آفیسر جس کو دھمکیاں دیناآ تی ہی نہیں ،میں تو انہیں کہتا ہوں کہ اس فیلڈ میں آئے ہو تو یہ سب سیکھو مگر امید ہے کہ میرے ساتھ رہ گئے تو ضرورسیکھ جائیں گے ،اور پھر انہوں نے ہنستے ہوئے فراز احمد کی طرف دیکھا ،وہ بھی مسکرا رہے تھے اور کہنے لگے بات ضرور ہوئی ہے مگر آپ کو سیاق و سباق سے ہٹ کربتائی گئی ہے اور پھر ڈی پی او صاحب نے چوہدری شجاعت والا نسخہ ”©©مٹی پاﺅ جی مٹی پاﺅ“استعمال کرتے ہوئے کہا چھوڑو جی اب بس کریں بات ختم ۔ہم نے بھی مزید بحث مباحثہ مناسب نہ سمجھا۔ مہدی صاحب نے کہا کہ جی ابھی کیونکہ رمضان ہے اس لیے چائے ادھار رہ گئی عید کے بعد بیٹھیں گے اور چائے پیں گے ،میں نے کہا جی ایک نہیں دو چائے رہتی ہیں اور پھر قہقہ گونج اٹھا ،میں

نے کہا مہدی صاحب آپ سے شکوہ یہ ہے کہ آپ رابطے میں نہیں رہتے فون نہیں اٹھاتے ،ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ بخاری صاحب سچ بات تو یہ ہے کہ انتہا درجے کی مصروفیت کے باعث میں فون سن نہیں سکتا مگر یہ بھی سچ ہے کہ صحافی برادری میں سے اگر میںنے کسی صحافی کا زیادہ فون اٹینڈ کیا ہے تو وہ تحسین بخاری کا اٹینڈ کیا ہے ،دو چار منٹ کی گپ شپ کے بعد ہم اٹھ کر جانے لگے تو ایس پی انویسٹی گیشن فراز احمد صاحب نے کہا کہ آپ نے جانا نہیں بلکہ میرے آفس چلیں اور پھر ہم وہاں چلے آئے، تھوڑی دیر ان سے بھی گپ شپ ہوئی اور عید کے بعد مل کر چائے پینے کے عہد کے ساتھ ہی وہاں سے چلے گئے ۔
قارئین محترم یہ تھا حال احوال جو آپ سے شیئر کرنا ضروری تھا ، مصروفیت کے باعث حال احوال میں تاخیر پر معافی کا طلبگار ہوں ۔
میں انتہائی شکر گزار ہوں اپنے ان احباب کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر میری بھر پور حوصلہ افزائی کی ،انتہائی شکر گزار ہوں ان سجن بیلیوں کا جنہوں نے فون کالز کر کے کہا بخاری صاحب آپ کی کال کا انتظار کر رہے ہیں جو حکم ہو گا ہم احتجاج کیلئے حاضر ہیں ،انتہائی شکر گزار ہوں ان احباب کا جواظہار یکجہتی کیلیے باقاعدہ میرے پاس تشریف لائے ،انتہائی شکر گزارہوںا نیشنل کالمسٹ کونسل کی سینئر قیادت کا جنہوں نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم نہ تو کمزور ہیں نہ ہی لاوارث آپ نے ہمت نہیں ہارنی ،اتہائی شکر گزار ہوں آئی جی پنجاب کے انچارج میڈیا سیل نایاب حیدر صاحب کا ،انتہائی شکر گزار ہوں آر پی او بہاولپور زبیر دریشک صاحب ،اور ڈی پی او رحیم یار خان نتظر مہدی صاحب کا جن کی کاوشوں سے یہ اس ایشو کا خاتمہ ہوا ۔آخر میں ایس پی فراز احمد صاحب کیلیے شاکر شجاعبادی کا ایک شعر کہ
ہے شاکر گالھ عجیب جہی ۔میڈا غیر وی توں میڈا یار وی توں