کراچی ( نیوز رپورٹ )کورونا وائرس کی وبا کے دوران کچھ نئی طرز کی ذہنی بیماریاں منظر عام پر آنا شروع ہوئی ہیں، جس میں کچھ لوگوں میں تشدد سہنے کے بعد کی علامات یا پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی کیفیات، ڈپریشن کی ایک نئی قسم کا سامنے آنا اور نشہ آور ادویات کا حد سے زیادہ استعمال شامل ہے۔ان

خیالات کا اظہار ملکی و غیر ملکی ماہرین نفسیات نے عالمی یوم ذہنی صحت “ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے 2020” کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کا انعقاد پاکستان سائکیٹرک ایسوسی ایشن اور جناح اسپتال کراچی کے ڈپارٹمنٹ آف سائکیٹری نے جناح اسپتال کے نجم الدین آڈیٹوریم میں کیا۔بین الاقوامی کانفرنس سے ورلڈ سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افضل جاوید، پاکستان کے نامور ماہر امراض نفسیات پروفیسر ہارون احمد، برٹش پاکستانی سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر عباس، برطانوی ماہر امراض دماغ اور فارنسک سائکیٹری کی ماہر ڈاکٹر لِندسے تھامسن، سابق پاکستانی کرکٹر یونس خان، پاکستان سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر عنیزہ نیاز سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔اس موقع پر پاکستان سائکیٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر

اقبال آفریدی نے پروفیسر ہارون احمد کے نام سے ریسرچ ایوارڈ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا جس کے تحت ہر سال ایک ذہنی محقق کو بہترین مقالے پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔پروفیسر ہارون احمد ریسرچ ایوارڈ کے لیے دس لاکھ روپے پروفیسر ہارون احمد دے رہے ہیں جبکہ پاکستان سائکیٹرک سوسائٹی بقیہ دس لاکھ روپے دے گی۔کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ہارون احمد کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے نئی طرز کی ذہنی بیماریاں اور کیفیات منظر عام پر آ رہی ہیں جس میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر جیسی علامات یا تشدد سہنے کے بعد کی علامات سمیت

ایک نئی طرز کا ڈپریشن شامل ہے، اس طرح کے ڈپریشن میں مبتلا لوگوں کا کام کرنے کا دل نہیں چاہتا اور ان میں تنہائی پسندی کی علامات اور کیفیات پائی جارہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے دوران نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے جو تشویشناک رجحان ہے، ان کا کہنا تھا کہ ذہنی بیماریاں چھپانے سے کوئی بھی شخص مضبوط نہیں ہو جاتا، ڈپریشن 70 فیصد تک دماغ میں موجود کیمیائی اجزا کے عدم توازن سے پیدا ہوتا ہے جس کا علاج دواؤں کے ذریعے کامیابی سے کیا جاتا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کو حکومتی توجہ ملنی چاہیے اور اس شعبے کو مزید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
ورلڈ سائیکٹرک ایسوسی ایشن کے نئے منتخب صدر پروفیسر افضل جاوید کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کی 25 سے 30 فیصد آبادی ذہنی مسائل کا شکار ہے اور کورونا کی وبا کے بعد ان مسائل میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ ممالک اور معیشت کی تباہی سے دوچار ممالک میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہے، پاکستان جیسے ممالک کو ذہنی امراض کے علاج اور خاتمے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر معاشی پریشانیوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے ذہنی امراض کی شرح میں خطرناک حد

تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان سائیکٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور ڈین جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر پروفیسر اقبال آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ نہ صرف حکومت بلکہ لوگوں کو ذہنی صحت میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ذہنی امراض سے محفوظ رہ سکیں۔ ذہنی امراض میں سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ عوام روزانہ ورزش کریں، اپنے آپ کو موٹاپے سے بچائیں، صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کریں، موبائل اور کمپیوٹر سکرین کو کم سے کم ٹائم دیں جبکہ سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کرکے اپنی ذہنی صحت کو ٹھیک رکھیں۔ اس وقت کورونا کا خوف اور گھبراہٹ جیسی بیماریاں منظرعام پر آ رہی ہے جبکہ جسمانی فاصلہ اختیار کرنے کی احتیاط نے بھی ایک ذہنی مرض کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو بغیر کسی جھجک کے معالجین سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ تمام بیماریاں قابل علاج ہیں اور انسان علاج کے بعد صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے۔معروف کرکٹر یونس خان نے اس موقع پر بتایا کہ ذہنی صحت کھلاڑیوں سمیت ہر انسان کے لئے جسمانی صحت کی طرح ہی ضروری ہے کیونکہ ایک ذہنی طور پر کمزور شخص فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔