اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) 75 ٹیسٹ میں 42.45 کی اوسط سے 5731 رنزبنانے والے دائیں ہاتھ کے بیٹسمین اظہر علی نے کبھی پاکستان کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا، کیونکہ 2009ء کے بعد پاکستان کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ میچ کھیلا ہی نہیں گیا، البتہ مئی 2015ء میں زمبابوے کے مقابلے پر اظہر علی نے تین ون ڈے میں ٹیم پاکستان کی قیادت کے فرائض انجام دیے تھے۔اب اظہر علی سمیت پوری پاکستان ٹیم

پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی میں دس سال بعد پاکستان کی سرزمین پر کھیلے جانیوالے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کیلئے تیار ہے۔34 سال کے اظہر علی کہتے ہیں، کہ یہ ان کے کیریئر کا ایک اہم دن ہے، کیونکہ وہ پہلی بار اپنی سرزمین پر ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہوں گے، دوسری طرف انہوں نے خوشی کے اس موقع پر ٹیم کی بالخصوص ٹیسٹ سطح پر پرفارمنس پر فکر مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درست ہے کہ اس فارمیٹ میں ہم کچھ مسائل کا شکار ہیں اور مناسب نتائج کے حصول میں ناکام ہیں، تاہم سری لنکن سیریز اس تناظر میں اہمیت کی حامل ہے، ہم اچھا کھیل پیش کر کے ماضی کی خراب پرفارمنس کے حصار سے نکل سکتے ہیں۔ کپتان کا پرفارم کرنا ازحد ضروری ہوتا ہے، میں اس بات کو سمجھتا ہوں، ایسا نہیں کہ میں خراب پرفارمنس کے بھنور میں پھنس گیا ہوں۔