عثمان عبدالقیوم
علاقائی عصبیت کی بنیاد پر ماہ دسمبر کی ہمارے ساتھ کئی غمناک اور کربناک یادیں وابستہ ہیں جو ہر سال

ہمارے دلوں کو بہت تکلیف پہنچاتی ہیں یہی دسمبر تھا جب انتقام دل میں لئے دشمن نے کیاخوب چال چلی حقوق کےنام پر مسلمانوں کو تنکا تنکا کر دیا اور پاکستان کے مشرقی حصے میں انتقام کی آگ بھڑکانے کے ساتھ ساتھ نفرت و لاچاری کی آگ کو ہوادے کر ہزاروں افراد کی قربانیوں کے ساتھ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور اکلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی اسلامی ریاست دو لخت ہو گئی یوں بنگال کے نام سے پاکستان کا ایک بازو بنگلہ دیش کی صورت میں

سامنے دنیا کے نقشے پر ابھر آیا جب کبھی کتابوں میں سقوط ڈھاکہ پڑھتے ہیں یا اخبارات کو چیختے ہوئے دیکھتے تھے یا پھر دسمبر سال بعد دستک دیتا ہے تو ہمارے سامنے سانحہ 71 ہوتا ہے قدرتی طور پر جذبہ انسانیت لیے ہمارے دلوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹ جاتے تھے ابھی اسی سانحے کی برسی پر ہم نوحہ کناں تھے کہ 16 دسمبر 2014 ایک بار پھر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن بن گیا ،جب تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے بھارت کی ایما پر افغانستان کے ساتھ ملکر سفاکیت کو ظاہر کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ذریعے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پرحملہ کر کے معصوم بچوں کا خون بہایا اور سفاکیت کی انتہا کر دی ،دہشت گردوں کے اس حملے میں اساتذہ اور بچوں سمیت 150 افراد شہید ہوئے تھے ، اس حملے نے ایک بار پھر مائوں کے جگر گوشوں کو ان سے جدا کردیا تھا اور ان کے پیاروں کوایسی تکلیف دی جو ساری عمر انہیں سسک سسک کر جھیلنا پڑے گی۔

سانحہ بنگال ہو یا آرمی پبلک سکول کے وہ پھول جو شہید ہوے تھے کہیں دنیا میں ایسی قربانی دیکھا دیں یہ جو ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں؟ ایک لاکھ کے قریب عام لوگ جو اس دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں کوئی ہے جو دیکھا سکتے ہیں وہ ؟ اور اس سے بھی ڈبل ہمارے محافظ ہمارے وردی والے بھائی شہید ہوئے ہیں کبھی انکے بارے میں بتایا گیا ہے ؟ نہیں نہ ؟ اج شہدا کے گھر والوں کو بتائیں آپ کی ان عظیم قربانیوں کا احسان تو ہم نہیں اتار سکتے لیکن انکو ہم رائیگاں بھی نہیں جانے دیں گے
‏‎وہ ظلم نہیں بھولے وہ شھادت نہیں بھولے
معصوم فرشتوں کی وہ عبادت نہیں بھولے
بارود کے شعلے وہ تڑپتے ہوئے بچے
ہم لوگ ابھی تک وہ قیامت نہیں بھولے
16 دسمبر پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہم اور سبق آموز واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ مگر ان بزدلانا حملوں سے

ہماری قوم کا عزم کبھی متزلزل ہوا اور نہ ہو گا۔آج کا دن جہاں سانحہ پشاور کے شہداء کو شاندار خراج تحسین پیش کرنے اور لواحقین سے ہمدردی کے اظہار کا موقع ہے۔ وہاں اس عہد کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ہم اپنی صفیں درست کریں گے. سیاست, لسانیت, صوبائیت, اور فرقہ واریت سے خود بھی بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے جیسے قیام پاکستان کے وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا.” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں.دشمن کے اس آخری وار کو پہلے کی طرح ایک قوم بن کر مقابلہ کریں گے اور دشمن کے ناپاک مقاصد کو ناکام بنائیں گے اس یکجہتی کی آواز سے اردگرد موجود دشمنوں کو ایک پیغام دیا جائے ہم سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں.