ایڈیلیڈ ( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی لیگ اسپنر یاسر شاہ نمبر ایک ٹیسٹ بیٹسمین اسٹیو اسمتھ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنے ہوئے ہیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک اسٹیو اسمتھ کو 7 مرتبہ پویلین کی راہ دکھا چکے ہیں۔یاسر شاہ نے 2014 میں دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اپنا ڈیبیو کیا جس میں پاکستان نے 221 رنز کے بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی۔اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ یاسر شاہ نے اپنے

کیریئر کی پہلی وکٹ اسٹیو اسمتھ کو ہی آؤٹ کرکے حاصل کی جبکہ میچ کی دوسری اننگز میں بھی انہوں نے اسٹیو کو اپنا شکار بنایا۔یاسر شاہ نے اسی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی اسمتھ کو آؤٹ کیا جو آسٹریلین بیٹسمین کے لیے ایک دردناک لمحہ ہوگا کیونکہ اس وقت یاسر نے اسمتھ کو 97 رنز پر آؤٹ کرکے ان کی سنچری کا خواب چکنا چور کردیا۔ایسی ہی یادیں لے کر جب حالیہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران برسبین کے میدان میں یاسر شاہ کا اسٹیو اسمتھ سے سامنا ہوا تو انہوں نے 4 رنز پر سابق آسٹریلین کپتان کو بولڈ کرکے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ایڈیلیڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیو اسمتھ نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ یاسر شاہ کے خلاف کھیلتے ہوئے نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں

گے۔اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جب بھی اسکور کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنے آپ کو سزا دیتے ہیں جس میں ان کا ورک آؤٹ شامل ہے۔بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جب پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ اختتام پذیر ہوا تو اسٹیو اسمتھ نے خود کو سزا دینے کے لیے تقریبا 3 کلومیٹر تک کی دوڑ لگائی۔اس دوڑ کی وجہ سے اسٹیو اسمتھ آسٹریلین ٹیم کی بس میں سوار ہونے سے محروم رہے، تاہم بعد میں انہوں نے کس طرح ٹیم کو جوائن کیا اس حوالے سے اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔یاسر شاہ نے 17-2016 کے دورے کے دوران برسبین ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں اسمتھ کو آؤٹ کیا جس کے بعد انہوں نے سڈنی میں اسی سیریز کے تیسرے میچ میں اسمتھ کو دونوں اننگز میں اپنا شکار بنایا تھا۔یاد رہے کہ اسمتھ کا کیریئر اوسط 64 ہے جبکہ یاسر شاہ کے خلاف ان کا رن اوسط صرف 27 ہے۔ اسمتھ کا 10 مرتبہ یاسر شاہ کا سامنا ہوا ہے جس میں 7 مرتبہ وہ یاسر کا شکار بنے، اس کے علاوہ انگلینڈ کے اسٹورڈ براڈ انہیں 8 مرتبہ آؤٹ کر چکے ہیں لیکن دونوں کھلاڑیوں کا سامنا 44 مرتبہ یعنی 44 اننگز میں ہوچکا ہے۔