84

مجرم ملک کے فیصلے کر رہے ہیں‘ان کی غلامی سے موت بہتر ہے‘ہرحال میں اسلام آباد کےلیے نکلیں گے، عمران خان

Spread the love

پشاور ( وی او پی نیوز )چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل ہرحال میں اسلام آباد کے لیے نکلیں گے، کابینہ کا ہمیں روکنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ جب یہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو انہیں جہوریت یاد آ جاتی ہے، اس حکومت اور فوجی آمروں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں، فاشسٹ حکومت کی تاریخ ہمیں معلوم ہے، یہ وہی حربے استعمال کرتے ہیں جو آمر کرتے ہیں۔ یہ لوگ اتنے ہی غیرجمہوری ہیں جتنے فوجی آمرہیں، الیکشن کمیشن ان کی غلام ہے، ہمارے ساڑھے تین سال میں یہ کب سڑکوں پر نکلے؟
عمران خان نے کہا کہ یہ سیاست نہیں جہاد ہے، اگر ملک میں کسی کی جان کو خطرہ ہے تو وہ میری جان کوخطرہ ہے، مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں، ان کی غلامی سے موت بہتر ہے، کل خیبرپختون خوا سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے نکلوں گا۔

خیبرپختون خوا سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قافلہ لے کر نکلوں گا، کوئی ہمیں روک کر دکھائے، عوام کا سمندر ہوگا یہ کتنے لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں گے، عوام کے سمندر کو کوئی نہیں روک سکتا، ہم نے کوئی غیرقانونی چیزنہیں کی، پر امن احتجاج ہمارا حق ہے، کوئی توڑ پھوڑ کی بات نہیں کی۔
خوف انسان کوغلام بناتا ہے، 4 ہزار انگریزوں نے 40 کروڑ ہندوستانیوں پر حکومت کی، کیا ہم ان چوروں کی حکومت تسلیم کریں؟ یہ لوگ کتنے لوگوں کوجیلوں میں ڈالیں گے؟ یہ لوگ اتنے لوگوں کو جیلوں میں نہیں ڈالیں گے۔اسلام آباد اور راولپنڈی کو بند کر دیا گیا ہے، اتنی پولیس نہیں کہ وہ اتنے سارے لوگوں کو روک سکے، اسلام آباد کا آئی جی مجرم ہے، اسلام آباد آئی جی کوسزا ہونی چاہیے۔انہوں نے گزشتہ رات جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپے سے متعلق کہا کہ ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپا مارا گیا جس کی ویڈیو دیکھی ہے، عدلیہ اور نیوٹرلز سے پوچھتا ہوں کہ کون سی حکومت اس طرح کرتی ہے، کوئی جمہوری حکومت اس طرح نہیں کرتی۔حماد اظہرکے گھر پر حملہ کیا گیا، پاکستان کے ساتھ کونسی غداری ہو رہی ہے۔
آج ملک میں فیصلہ کن وقت ہے کئی مرتبہ ہماری حکومت گرانے کی کوشش کی گئی تھی ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا، ہم نے کبھی لڑائی نہیں کی، اب یہ فیصلہ ہوگا کہ کس طرح کا پاکستان ہوگا۔ یہ لوگ اپنے کرپشن کے کیسزختم کرانا چاہتے ہیں، یہ مجرم ملک کے فیصلے کر رہے ہیں۔ نیوٹرل، ججز اور وکلا کو پیغام دیتا ہوں کہ فیصلہ کن وقت ہے، پوری قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے، ہم نے واضح کہا کہ پرامن احتجاج ہوگا، پرامن احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، اگر اجازت دی گئی توعدلیہ کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ کسی کے لیے نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں، جونیوٹرل کہتے ہیں آپ کا حلف ہے پاکستان کی سالمیت،خوداری کو تحفظ کرنا، ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ بھی ذمہ دار ہوں گے۔ رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں، شریف لوگوں کے گھروں پرحملے کیے جارہے ہیں، کیا ہماری عدلیہ ان اقدامات کی اجازت دے گی؟عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے خوف ہے کہ ہفتوں میں ہم سری لنکا جیسے حالات کی طرف جارہے ہیں۔جب الیکشن کا اعلان ہوگا توہم اپنی کارکردگی کا بتائیں گے، سب کو پتا ہے حکومت سے سنبھالا نہیں جا رہا، واضح ہو گیا کہ ان کا تجربہ کرپشن کرنے کا تھا معیشت چلانے کا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں