41

برطانیہ میں مسلمان ملازمین امتیازی سلوک کا شکار ہیں : سروے میں اہم انکشافات

Spread the love

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )ترک میڈیا نے ایک اہم انکشاف کیا ہے ، انکشاف کے مطابق حال ہی میں کیے گئے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ برطانیہ میں زیادہ تر ملازمین امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔یہ سروے برطانیہ میں کیا گیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وقت برطانیہ میں ملازمت کرنے والے 10 میں سے 7 مسلمان ملازمین اپنےدفتروں یا کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔یہ سروے ہائفن نامی ایک نئی آن لائن پبلیکیشن نے کروایا ہے، جس میں

برطانیہ اور یورپ کے مسلمانوں کے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔اس سروے کا مجموعی طور پر 1,503 برطانوی مسلمانوں کو حصہ بنایا گیا جہاں 22 اپریل سے 10 مئی کے درمیان ان افراد سے انٹرویو لیے گئے، اس سروے کے ڈیموگرافکس میں تمام افراد کی عمر، جنس، نسل اور علاقے پوچھے گئے۔سروے کے نتائج کے مطابق، سیاہ فام مسلمانوں کو دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ مسلمان مخالف اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بھرتیوں کے دوران 37فیصد دوسرےمسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 58 فیصد سیاہ فام مسلمانوں کو برطانیہ میں امتیازی سلوک کا سامناہے۔برطانیہ میں دفاتر میں مسلمانوں کو کام سے متعلق مصروفیات کے دوران سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس سروے میں 42 فیصد برطانوی مسلمانوں نے یہ بتایا کہ اُنہیں کام کے دوران مسلم مخالف امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔جبکہ 40 فیصد افراد نے بتایا کہ اُنہیں دفاتر میں پروموشن کے سلسلے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم، اس سروے میں ایک اچھی بات بھی سامنے آئی اور وہ یہ ہے کہ امتیازی سلوک کےبعد بھی لوگ پُرامید ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامو فوبک جذبات میں اضافے کے باوجود، اس سروے کا حصّہ بننے والے آدھے سے زیادہ افراد کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مجموعی طور پر ان کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور اُنہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ماضی کے مقابلے میں برطانیہ میں مسلمانوں کو اب پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں