32

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت،جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب، مریض دربدر ،ڈریپ ناکام

Spread the love

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جان نکالنے لگیں۔قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ کورونا اور ڈینگی میں استعمال ہونیوالی واحد دوائی پیناڈول بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہے دوسری طرف اس دوائی کی بلیک مارکیٹنگ کا سلسلہ جاری ہے ساڑھے چار سو روپے کی 500 گولیوں کا ڈبہ 3000 میں بھی دستیاب نہیں میڈیسن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔شوگر،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات مہنگی۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔شہر میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی شہر میں ادویات کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ روزنامہ ” پاکستان ” کے مطابق لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بدستور ادویات کی کمی کا سامنا ہے، انستھیزیا کی ادویات اور انجکشن بھی نایاب ہو گئے ہیں، مریضوں کو کئی روز سے ادویات میسر نہیں۔لاہور کے میو ہسپتال میں مریض اور لواحقین

ادویات کیلئے در بدر ہونے لگے، کئی روز سے ہسپتال میں ادویات دستیاب ہی نہیں، مریض بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔ہسپتال ذرائع کے مطابق انستھیزیا کے انجیکشنز کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کے آپریشن متاثر ہو رہے ہیں، بعض مریضوں کے لواحقین بازار سے انستھیزیا خرید کر آپریشن کروانے پر مجبور ہیں، ذرائع کے مطابق سروسز اور جناح ہسپتال کو بھی انستھیزیا کی کمی کا سامنا ہے۔جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد کے مطابق سروسز، میو اور جناح ہسپتال کو 300 کے قریب انستھیزیا کی خوراکیں جنرل ہسپتال نے ادھار پر دی ہیں، جیسے ہی ان ہسپتالوں کے پاس سٹاک آئے گا وہ انستھیزیا جنرل ہسپتال کو واپس کر دیں گے۔میو ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادویات کی خریداری نہیں ہوئی، سپلائی ملتے ہی مریضوں کو ادویات کی فراہمی شروع کر دیں گے۔محکمہ صحت پنجاب نے بھی میو ہسپتال میں ادویات کی کمی پرچپ سادھ رکھی ہے، کوئی ذمہ دار بات کرنے کیلئے تیار نہیں۔دوسری جانب میڈیکل سٹور مالکان کا کہنا ہے کہ بخار، مرگی، جگر، بلڈ پریشر اور خون پتلا کرنے والی ادویات کی سپلائی نہیں آ رہی،3 ماہ سے یہ ادویات نایاب ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں