108

اطلاعات پریشان کن ہیں …..پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے اہم فیصلے کرلیے

Spread the love

لاہور (طیبہ بخاری سے) شہباز گل کی گرفتاری اور تشدد کے معاملے نے اب ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے ……پہلے اس معاملے پرخاموشی کی کیفیت چھائی رہی ، پھر کچھ دن بعد پی ٹی آئی کی جانب سے مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا …….. حکومتی موقف ساتھ ساتھ چلتے رہے بلکہ اب تک چل رہے ہیں ….. ایوان میں بھی تقاریر کا سلسلہ چلتا رہا …..ایسا لگ رہا تھا کہ اب شائد معاملہ ٹھنڈا ہو جائیگا لیکن پھر یکدم معاملے نے نیا یعنی ” تشدد” کا رخ اختیار کر لیا اوراب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ معاملہ دبنے کی بجائے مزید ابھرے گا کیونکہ ایسی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ اب اس میں انسانی حقوق والے بھی کود پڑے ہیں.شہباز گل پر مبینہ تشدد کے معاملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی میدان میں آگئی ہے . انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈاکٹر شہباز گل پر مبینہ تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو شہباز گل کے وکلاء کی جانب سے ان پر کیے جانے والے تشدد کے الزامات پر تشویش ہے۔ فوری طور پر تشدد کے دعووں کی شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ حراست شہباز گل پر بدترین تشدد کیا گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ شہباز گل پر ذہنی و جسمانی کے علاوہ جنسی تشدد بھی کیا گیا ہے……
شاید یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی “پالیسی “تبدیل کر لی ہے اور مذمتی بیانات کے بعد اب شہباز گل کی بھرپورحمایت کی جا رہی ہے . تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ہماری اعلیٰ قیادت کی بیٹھک ہوئی ہے، جس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ شہباز گل پر بہیمانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں، اطلاعات پریشان کن ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ذہنی اور جسمانی تشدد کیساتھ ساتھ جنسی تشدد بھی کیا گیا، شہباز گل کو برہنہ

کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی بھی جماعت کا شخص ہو اس پر تشدد نا قابل قبول ہے۔…..تا دم تحریر یہ اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اپنے قانونی مشیر بابر اعوان کو اہم ذمہ داری سونپ دی۔اسلام آباد میں کپتان کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس ہوا۔اجلاس میں اسد قیصر، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، سیف اللّٰہ نیازی اور عثمان ڈار شریک تھے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران عدالتوں میں پی ٹی آئی کی زیر سماعت درخواستوں اور شہباز گل کیس کی عدالتی کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کپتان نے شہباز گل کی گرفتاری کے خلاف ہفتے کو اسلام آباد میں ریلی نکالنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ہوا کچھ یوں کہ عمران خان شہباز گل کی عیادت کے لیے پمز ہسپتال پہنچےلیکن انہیں شہباز گل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس کے بعد وہ پمز اسپتال سے واپس روانہ ہوگئے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ” کیا یہاں قانون کی حکمرانی ہے؟ انہیں عدالت کے حکم کی کوئی فکر نہیں ہے، کل اسلام آباد میں شہباز گل کیلئے ریلی نکال رہا ہوں، سب لوگوں کو دعوت دیتا ہوں ریلی میں شرکت کریں۔ ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے، سارے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر ریلیاں نکالی جائیں گی”۔شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی عمران خان کے ہمراہ پمز ہسپتال پہنچے تھے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان

کی جانب سے کارڈیالوجی وارڈ کے باہر نعرے بازی بھی کی گئی۔
علاوہ ازیں اسلام آباد میں تحریک انصاف کی طرف سے منعقد کیے گئے ’فریڈم آف ایکسپریشن اینڈ پروٹیکشن آف میڈیا‘ نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ”موجودہ حکومت مجھے زہر دینے کے لیے شہباز گل کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ تفتیش کار شہباز گل سے میرے کھانے کے متعلق اس لیے معلومات حاصل کررہے ہیں تاکہ وہ میرے کھانے میں زہر ملا سکیں۔ شہباز شریف کے منی لانڈرنگ کیس کے چار گواہوں کی اسی طریقے سے موت واقع ہو چکی ہے۔حکمرانوں نے ان چار گواہوں کے کھانے کے متعلق بھی ایسے ہی معلومات حاصل کی تھیں تاکہ انہیں زہر دینا آسان ہو۔ اب وہ اسی مقصد کے لیے میرے کھانے سے متعلق معلومات حاصل کر رہے ہیں۔“اس موقع پر عمران خان نے ایک بار پھر’نیوٹرلز‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ ”میں نیوٹرلز سے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے۔ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔بند کمروں میں کیے گئے فیصلے بعض اوقات اچھے نہیں ہوتے۔ سختی اور جبر کے ذریعے ان چوروں کو تسلیم کروانا نقصان دہ ہو گا۔“
دوسری جانب وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے شہباز گل پر تشدد کے عمران خان کے الزامات کو مسترد کردیا۔اپنے بیان میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ”

تشدد ہوا تو میڈیکل رپورٹس میں کیوں نہیں آیا؟ شہباز گل سے ملنے کے لیے عمران خان کورٹ آرڈر لے آئیں اور ملاقات کرلیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ شہنشاہ آئے، دروازہ کھلے اور وہ اندر چلے جائیں۔ میڈ یکل بورڈ نے کہا ہے کہ شہباز گل صاحب صحت مند ہیں۔مریم نواز اور نواز شریف سے ہم لوگ کورٹ آرڈر لے کر ملتے تھے”۔….. مزید برآں مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے ” جیو نیوز ” کے پروگرام ” نیا پاکستان ” میں موقف اپنایا کہ” شہباز گل پر تشدد کا نہ پمز اسپتال نے کہا اور نہ جیل انتظامیہ نے، عمران خان بیانیہ بنا رہے ہیں کہ شہباز گل کے بیانات کو ان سے نہ جوڑا جائے۔ شہباز گل دو دن ریمانڈ پر رہے تو ان کیلئے اتنا بڑا میڈیکل بورڈ بنا، پھر کیوں رو رہے ہیں؟ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے تو پہلے تشدد کی تحقیق ہوگی پھر مقدمہ کی تفتیش ہوگی، شہباز گل نے عدالت میں تشدد کی شکایت نہیں کی، صرف سانس کی شکایت کی۔ پنجاب کے کسی ڈاکٹر اور صوبائی وزیر داخلہ نے نہیں کہا کہ تشدد ہوا”۔

پی ٹی آئی کی ریلی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں5 سے زائد افراد جمع ہوئے تو ایکشن لیا جائے گا۔ اسلام آباد میں 5 سے زائد افراد کے کسی بھی جگہ پر اکٹھا ہونے پر پابندی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سےیہ پابندی 23جولائی2022سے عائد ہے. کسی بھی جگہ پر جلسے جلوس ،ریلی اور لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔ عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کسی بھی جگہ پر 5 سے زائد افراد اکٹھے نہ ہوں، کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا ۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے معاملے پر 12لیگی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے ہیں جس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ “وارنٹ گرفتاری میں، مجھ سمیت میرے چھوٹے بھائی بلال تارڑ کا نام شامل کرنا چودھری پرویز الٰہی کی طرف سے ان احسانات کا بدلہ ہے جو ہمارے بزرگوں نے ساری عمر ان پر کئے۔سیاسی انتقام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، پورےخاندان کا نام بھی ڈال دو، انشاءاللہ جھکنے والے نہیں۔ مقدمہ مضحکہ خیز ہے۔”خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے معاملے میں پنجاب حکومت کی درخواست پر مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔


یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے 19 اگست کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ٹوئیٹ کی اور اپنے گھر پولیس آنے کا دعویٰ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کچھ دیر پہلے پولیس موبائل میرے گھر آئی تھی۔ پولیس نے میرے ساتھ کام کرنے والوں سے پوچھا کہ اسد عمر یہاں رہتے ہیں؟اسد عمر نے مزید کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ارادہ ہے ان کا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں