67

سبز پتوں والی غذائیں کھائیں …بلڈ پریشر پر قابو پائیں

Spread the love

لاہور ( ہیلتھ نیوز ) بلڈ پریشر کا مرض کسے نہیں‌ہے ، ہر کوئی اس مرض سے پریشان ہے لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ….آج ہم آپ کو ایسی غذائیں بتائیں گے کہ جن کے استعمال بلڈ پریشر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے .
بلڈ پریشر فالج، ذیابیطس اور امراضِ قلب کی بڑی وجہ ہے، اس لیے اسے کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے لوگ طرح طرح کے جتن کرتے اور مختلف ادویات کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔تاہم، یہاں آپ کو کچھ ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے جوکہ ہمارے فشارِ خون کو معمول پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، ان غذاؤں میں سبزیاں، دالیں اور دیگر پھل وغیرہ شامل ہیں۔
چقندر کا رس پینے کے صرف 3 منٹ بعد ہی دل قوی ہوتا ہے اور اس کے مسلسل استعمال سے بلڈ پریشر میں 10 سے20 یونٹ تک کمی آسکتی ہے۔سبز پتوں والی غذاؤں میں نائٹریٹ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس لیے سلاد کی ایک پلیٹ بلڈ پریشر کے خلاف ایک مؤثر دوا ثابت ہوسکتی ہے۔


غذا میں نائٹریٹ کی موجودگی سے نا صرف بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ انسان کئی امراضِ قلب سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق، اگر روزانہ 55 سے 70 گرام لوبیا اور دالیں کھائی جائیں تو بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ طویل عرصے کے لیے ٹل جاتا ہے، یہاں تک کہ بلڈ پریشر میں 43 فیصد تک کمی دیکھنے میں آتی ہے۔اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ لوبیا اور دالیں جادوئی غذا ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ ان دونوں بہترین غذاؤں میں پروٹین، فائبر، پوٹاشیئم اور دیگر اہم اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ قدرت کا انمول تحفہ ذائقے دار پستے بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ پابندی سے پستے کھانے سے بلڈ پریشر ریڈنگ میں 2 سے 3 پوائنٹس تک کمی آسکتی ہے۔
پستے اور دیگرگری دار خشک میوہ جات میں میگنیشیئم، چکنائی، فائبر اور پولیفینولز کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت پستے پیس کر دہی پر چھڑک کر کھانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ دوسری جانب کاجو میں موجود فیٹی ایسڈز بلڈ پریشر میں 3 پوائنٹس تک کی کمی کرسکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، اس میں آرگینائن کی وافر تعداد ہوتی ہے جوکہ بدن میں جاکر نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر یہ خون کی نالیوں کے پھیلنے اور سکڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، سبز چائے بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس میں شامل فلے وینوئڈز اور دیگر مفید اجزاء خون میں شامل ہوکر نا صرف دل و دماغ کو تقویت دیتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کو بھی کم کرتے ہیں۔پانی جوکہ قدرت کا عظیم تحفہ ہے، بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جرنل نیوٹریئنٹس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، دن اور رات میں مجموعی طور پر 550 ملی میٹر زیادہ پانی پی لیا جائے تو صرف 12 ہفتوں میں ہی بلڈ پریشر میں کمی دکھائی دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں