48

پاکستان کو ڈیزاسٹر پیکیج دیا جانا چاہیے، یونیسف، باب میننڈیزاور شیلا جیکسن نے فوری امداد کی اپیل کر دی

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) پاکستان کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے ، 3 کروڑ سے زائد افراد سیلاب میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں جبکہ باقی آبادی مہنگائی ، بے روزگاری ، سیاسی بے چینی کا شدید شکار ہونے کے باوجود سیلاب میں گھرے ہم وطنوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے . سیلابی ریلہ کہیں کم ہو گیا ہے اور کہیں بڑھ رہا ہے ، صورتحال یہ ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے . غیر ملکی رہنما اور امدادی ٹیمیں بھی سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں پر ہیں اور جو پاکستان نہیں آ سکے وہ اپنے اپنے ملکوں میں بیٹھے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں . تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی خارجہ

تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب میننڈیز نے نیوجرسی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے، 3 کروڑ لوگ گھروں سے محروم ہوئے ہیں، امریکا کی جانب سے پاکستان کو ڈیزاسٹر پیکیج دیا جانا چاہیے، آئی ایم ایف سے پاکستان کو مزید ریلیف ملنا چاہیے۔سینیٹر باب میننڈیز کا کہنا تھا کہ سمانتھا پاور سے درخواست کی ہے کہ سیلاب زدگان سے رابطے میں رہیں، انہیں درخواست کی ہے کہ امدادی رقم کے 20 ملین ڈالر جاری کریں۔ یہ رقم 30 ملین ڈالر کی امدادی رقم کے علاوہ ہے، اس امداد کے علاوہ بھی فوری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔امریکی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان کو امداد ایک قطرے سے زیادہ نہیں، اس لیے انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔سینیٹر باب میننڈیز نے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو عارضی تحفظ درجہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب شیلا جیکسن نے سیلاب متاثرین کی فوری امداد کی اپیل کردی ہے،امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے آواز اٹھا ئی ہے۔پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے شیلا جیکسن نے کہا کہ پاکستان میں حد نگاہ تک پانی ہی پانی ہے، سیلاب کا پانی نکلنے میں چھ ماہ سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ شیلا جیکسن نے بریفنگ کے دوران پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔
علاوہ ازیںچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسیف نے پاکستان میں ہنگامی امداد کی اپیل بھی کر دی ہے . اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے ہنگامی امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب میں گھرے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں.تقریباً 34لاکھ سیلاب زدہ بچے فوری امداد کے منتظر ہیں۔ سیلاب میں

پھنسے بچوں کو بھوک کے ساتھ بیماریوں نے گھیر لیا ہے، ملیریا اور ڈینگی کے ساتھ پیٹ کے امراض ان پر حملہ آور ہیں۔ یہ بچے اور بچیاں اس موسمیاتی تباہی کی قیمت چکا رہے ہیں، جس میں وہ حصے دار ہی نہیں، سیلاب سے متاثرہ بچوں کی مائیں غذائی قلت کا شکار ہوکر دودھ پلانے سے بھی قاصر ہیں۔یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ پنجاب میں یونیسف 9 ملین ڈالرز سے متاثرینِ سیلاب کی بحالی کا کام کریگا.جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یونیسف کے تعاون سے بحالی کے کام کا آغاز کر دیا ہے، بحالی کے کام میں سکولز اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی جانب سے یونیسف کے تعاون سے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔یونیسف ان علاقوں میں 9 ملین ڈالر کی رقم سے بحالی کا کام کرے گا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کپیٹن ریٹائرڈ ثاقب ظفر

کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور راجن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے سکولوں میں کھیل اور عارضی لرنگ سنٹرز قائم کئے جائیں گے، بچوں کو کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کئے جائیں گے۔سیلاب متاثرہ علاقوں میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ بیت الخلاء قائم کرنے کے ساتھ غذائیت کا شکار بچوں کے علاج کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ متاثرین سیلاب کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب نے پاکستان میں یونیسف کے سرابرہ عبداللّٰہ فادل کو بتایا کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سیلاب سے 62 اموات ہوئیں، ڈیرہ غازی خان کے 85 اور راجن پور کے 18 اسکولوں کی عمارتوں کو نقصان پنہچا، 43 بنیادی مراکز صحت تباہ ہوئے اور نہروں کو 431 مقامات پر کٹ لگے ہیں۔
آخرمیں ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کا ذکر ضروری ہے ،عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی عوام سے اپنی مرضی سے ادویات استعمال نہ کرنے کی اپیل کردی۔نمائندہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ استعمال سے جراثیموں میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسی مہلک بیماری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہی حال رہا تو زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس بیماریوں کے خلاف بے اثر ہو جائیں گی۔ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال نہ کریں، ادویات کے غلط استعمال، تشخیص کی غلطیوں اور معالجین کی کوتاہیوں سے سالانہ لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں