مہنگائی نہ تو 6 ماہ میں آتی ہے نہ جاتی ہے،افراتفری پھیلانے کی ضرورت نہیں: اسحاق ڈار

Spread the love

اسلام آباد ( وی او پی نیوز ) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے وفاقی دارالحکومت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کئی اہم معاملات پرکھل کر اظہار خیال کیا اور پاناما کے بارے میں بھی بات کی. اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گزشتہ ادوار میں پاناما کے ڈرامے نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا۔ گزشتہ ادوار میں پاناما کے ڈرامے نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا، پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کی بہتری کےلیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی، ابھی ہم نے بہت کام کرنا ہے، پاکستان پیرس کلب نہیں جائے گا۔ملک کی ترقی کےلیے ہمیں چارٹر آف اکانومی پر متفق ہونا ہوگا۔ مہنگائی نہ تو 6 ماہ میں آتی ہے

اور نہ ہی جاتی ہے، اتحادی حکومت کو مہنگائی سمیت بہت سے مسائل کا سامنا ہے، مہنگائی ہے، جسے جانے میں وقت لگے گا۔ یہاں روز ڈرامے ہوتے ہیں کہ یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، کچھ نہیں ہو گا، افراتفری پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ ہماری معیشت صحیح سمت میں جا رہی ہے، پہلے بھی معیشت ٹھیک کرکے دکھائی ہے اور اب بھی کریں گے۔ زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی لانا ہے، اس سال پاکستان کی 32 سے 34 ارب ڈالر کی بیرونی ضروریات ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی پچھلی حکومت کی نا اہلی اور بری طرز حکمرانی کی وجہ سے ہے، یہ 6 مہینے میں نہیں ہوتا، مہنگائی نہ 6 مہینے میں آتی ہے اور نہ جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چار سال ملک کی معاشی صورتحال مختلف تھی، 1 ارب ڈالر کا بانڈ دسمبر میں شیڈول کے مطابق میچور ہوگا، جن کی بروقت ادائیگیاں ہوں گی۔2013 ء میں مہنگائی کی بھرمار اور زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم تھے، 6 سے7 ماہ میں پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کی باتیں ہورہی تھیں. اقتدار میں آتے ہی ملکی معاشی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف پروگرام میں گئے، 2013 میں اقتدار ملنے کے 3 سال بعد مہنگائی کم کی اور معاشی شرح نمو 6 فیصد پر لائے۔ 2016 میں عالمی ادارے کہہ رہے تھے کہ 2030 تک پاکستان جی 20 ممالک کا حصہ ہوگا.معاشی ترقی میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے، موسمیاتی تبدیلیاں بہت بڑا چیلنج ہیں، یہ ہمارا ملک ہے سب کو ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: