57

کپتان کا پہلا “سیاسی میچ ” فیصلہ کن مرحلے میں داخل ، اوورز کم سکور بھی کم ، اپوزیشن نےپنجاب پر بھی ” سیاسی حملہ ” کر دیا

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے )وفاق کے بعد اپوزیشن نے پنجاب پر بھی ” سیاسی حملہ ” کر دیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر تحریک عدم اعتماد کی صورت میں بھرپور ” وار ” کر دیا ہے . اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب میں کپتان اپنے وسیم اکرم کا دفاع کیسے کرتے ہیں ؟ اور کرتے بھی ہیں یا نہیں کیونکہ وفاقی دارالحکومت سے خبریں آ رہی ہیں کہ حکومت نے بھی چودھرای برادران کے سر پر پنجاب کی پگ سجانے کی حامی بالآخر بھر ہی لی ہے..سوال یہ ہے کہ اگر یہ” کڑوی ” گولی نگلنی ہی تھی تو ” مرض ” کو اتنا بڑھنے اور پھیلنے کیوں دیا گیا . اس تمام صورتحال کو دیکھ کر کم سے کم یہ اندازہ تو ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن اپنے ” سینئر ” ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے اور ساڑھے تین سال کی “مجرمانہ خاموشی ” کے بعد اب اپنے پتے بروقت اور

بھرپور انداز میں کھیل رہی ہے . یوں تو سیاست میں کچھ بھی اور کبھی بھی نا ممکن نہیں ہوتا اور بقول شیخ رشید کے ایک گھنٹہ پہلے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی یا نہیں ؟ لیکن پنجاب کی حد تک دیکھا جائے تو یہاں اب صوبائی اسمبلی توڑنے کا “موقع ” تو پی ٹی آئی کھو چکی ہے اور اب اسے ہر حال میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا ہی پڑے گا . یعنی کپتان کو اب وکٹ کے دونوں‌جانب بھرپور اور عمدہ باولنگ کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، پہلا ” سیاسی میچ ” اب نتیجہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ، اوورز کم رہ گئے ہیں اور سکور بھی زیادہ نہیں جبکہ گذشتہ

رات کے جلسے میں اپنی شاندار ” اِن سوئنگ ” کرانے کا موقع بھی ضائع کر دیا یا یوں‌کہہ لیجئے میچ کے آخری لمحوں میں “وننگ کیچ ” ڈراپ کر دیا . کل کے پی ٹی آئی کے جلسے کو ناکام تو نہیں کہا جا سکتا لیکن کامیاب قرار دینا بھی قبل از وقت ہو گا کیونکہ نتیجہ اب پی ٹی آئی کے ہاتھ میں نہیں رہا . کپتان نے “سٹیڈیم ” تو بھر کر دکھا دیا لیکن اب بھی پرفارمنس ان کو ہی شو کرنا پڑے گی .
بہر حال میچ ابھی جاری ہے . صرف پنجاب کی حد تک نمبرز گیم کی بات کریں تو پنجاب اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 371 ہے۔پنجاب اسمبلی میں تحریک

انصاف ( پی ٹی آئی) کے ارکان کی تعداد 186 اور مسلم لیگ( ق )کی تعداد 10 ہے، اس طرح یہ تعداد 196 بنتی ہے۔ مسلم لیگ ( ن ) کے ارکان پنجاب اسمبلی کی تعداد 165 ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 7، جبکہ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں 5 ارکان آزاد ہیں۔ ایک رکن کا تعلق راہ حق پارٹی سے ہے، اس طرح اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 178 ہے۔اس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب یعنی کپتان کے “وسیم اکرم ” کے لیے (ق) لیگ کی کلیدی حیثیت ہے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے اپوزیشن کو 186 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کپتان کے پہلے سیاسی میچ کا اینڈ اگر متاثر کن نہ ہوا تو پھر نئے سیاسی کھلاڑیوں کا کیا ہو گا ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی ہو گی اور وہ آگے آنے سے پہلے سوچیں گے کہ کل کو ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو گا . سو میچ کی دلچسپ اینڈنگ بھی بہت ضروری ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ میچ کیا رخ اختیار کرتا ہے ، کپتان نے کم سے کم اب تک اتنا تو ثابت کر ہی دیا کہ وہ میچ کوپورے جوش و خروش سے کھیلے اور آخری گیند تک مقابلے کو لیکر گئے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں