سب کی نظریں لندن پر، فیصلےکون قبول کریگا، تفصیلات کیوں چھپائی جا رہی ہیں ؟

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) مسلم لیگ (ن) کے کارکن یہ کہنے پر کیوں مجبور ہو گئے ہیں کہ ” میاں جی ہن واپس آ جائو…..؟سب کی نظریں لندن پر کیوں ہیں ….؟سوال یہ بھی ہے کہ لندن میں ہونیوالے فیصلے کون کون قبول کرے گا …؟ قبول کیے جائیں گے بھی یا نہیں …؟ملاقاتیں ہو رہی ہیں ، صحافیوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے لیکن تفصیلات کیوں چھپائی جا رہی ہیں، کس سے چھپائی جا رہی ہیں…کب تک چھپائی جائیں گی ؟ سفارتی پاسپورٹ جاری ہو چکا توپنڈورا باکس پھر کھلے گا….؟ این آر ٹو ہوا یا تھری ؟ سب پر بات ہو گی اور کھل کر ہو گی ….جواب دینا پڑے گا ….حساب بھی دینا پڑے گا ….عوام کا سامنا کرنا پڑے گا اوراس اپوزیشن کا بھی جو چور ڈاکو کے موقف سے اب تک پیچھے نہیں ہٹی بلکہ آئندہ انتخابات بھی اسی بیانیے کیساتھ لڑنا چاہتی ہے…..
اطلاعات کے مطابق نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان لندن میں ہونے والی ملاقات میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ملاقات کے بعد شہباز شریف وطن روانہ ہوگئے ہیں۔ملاقات میں اصولی فیصلہ کیا گیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر بھی غور کیا جائے گا اور میرٹ کو اولیت دی جائے گی۔طے کیے گئے فیصلوں پر پی ڈی ایم کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ دو گھنٹے سے زائد وقت گزارا۔شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی آئینی معاملہ ہے، آئین کے مطابق طے ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مریم نواز، خواجہ آصف، ملک احمد خان، سلیمان شہباز اور حسین نواز بھی شریک تھے۔دوسری جانب سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے صحافیوں کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کسی دن آرام سے بیٹھ کر بتائیں گے۔لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ دعا کریں اللّٰہ تعالی معاملات کو بہتر بنائے، ملک کو بھی بہتر راستے پر لے کر آئے، اس وقت ملک مشکل میں ہے۔قبل ازیں لندن میں موجود وزیراعظم شہباز شریف نے (ن) لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے 2 روز میں دوسری ملاقات کی۔رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر بات ہوئی۔ علاوہ ازیں (ن) لیگ کے قائد نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کردیا گیا ہے۔ شریف فیملی نے نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ ملنے کی تصدیق کردی ہے۔سفارتی پاسپورٹ ہونے کے سوال پر نوازشریف نے تصدیق کردی۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ سفارتی پاسپورٹ میرے پاس کئی دن سے موجود ہے۔
علاوہ ازیں برطانوی عدالت میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے متعلق ڈیلی میل مقدمے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، برطانوی عدالت نے شہباز شریف کی حکم امتناعی کی درخواست خارج کردی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف کے وکلاء نے عدالت سے مزید وقت مانگا تھا، جس پر عدالت نے شہباز شریف کو مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔شہباز شریف کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وزیراعظم پاکستان ابھی مصروف ہیں، اس لیے جواب کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ ڈیلی میل نے شہباز شریف کے خلاف ثبوت جمع کروانے کے لیے پانچویں بار وقت مانگ لیاجس پر جسٹس میتھیو نیکلن نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہیں۔دوسری جانب، ڈیلی میل 9 بارعدالت سے تاریخ لے چکا ہے۔واضح رہے کہ شہباز شریف اور ان کے داماد علی عمران تاحال ڈیلی میل کےدفاع کا جواب نہیں دے سکے۔اُنہیں عدالتی نوٹس کا جواب نہ دینے کی صورت میں ڈیلی میل کی ’لیگل کاسٹ‘ ادا کرنا ہوگی۔

Tayyba Bukhari

Learn More →

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: