96

استعفیٰ نہیں دوں گا، ووٹنگ کا فیصلہ جو بھی ہو کسی صورت سازش کامیاب نہیں ہونے دوں گا: وزیر اعظم

Spread the love

اسلام آباد ( وی او پی نیوز )وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا، ووٹنگ کا فیصلہ جو بھی ہو مزید تگڑا ہو کر ان کے سامنے آؤں گا، میں کسی صورت سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان نے قوم سے کہا کہ وہ آج اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا مقصد عظیم تھا، ہمیں اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، کیونکہ اس سے براہِ راست ریاست مدینہ کا تصور ملتا ہے۔ میں نے اسلامی ریاست کے بنیادی اصول اپنے منشور میں لکھے۔ لوگ کہتے تھے کہ ’آپ کو سیاست میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟
وزیر اعظم نے صوفی بزرگ کے قول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، اللّٰہ نے ہمیں پر دیے، لیکن انسان چیونٹیوں کی طرح رینگتا رہتا ہے. میں نے وہ وقت دیکھا جب پاکستان ترقی کر رہا تھا، دنیا میں پاکستان کی ترقی کی مثالیں دی جاتی تھیں، لوگ یہاں دیکھنے آتے تھے۔ بعد میں ہم نے اس ملک کی ترقی کو نیچے آتے دیکھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے ہمیں عظیم صلاحیتیں دی ہیں، لیکن اس کے لیے رسٹرکشنز لگائی ہیں۔ اقبال کا شاہین کس وقت اوپر جاتا ہے، جب وہ اپنے سامنے مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ میں اپنے پاکستان میں بچوں کو سیرت النبیﷺ پڑھانا چاہتا ہوں کیونکہ وہ عظیم ترین شخص تھے۔ ہمیشہ کہا کہ میں نہ کبھی کسی کے سامنے جھکوں گا نہ ہی اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔ مجھے جب اقتدا ملا تو فیصلہ کیا کہ ہماری خارجہ پالیسی

آزاد ہوگی۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں تھا کہ میں بھارت یا امریکا مخالف ہوں گا، میں ان ممالک کے لوگوں کا مخالف نہیں ہوں، ان کی پالیسی کے خلاف ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ہم سے کہا گیا کہ امریکا زخمی شیر کی طرح ہے، ایسا نہ ہو کہ ہمیں مار دے۔ اس کے بعد میں نے بار بار کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، 9/11 میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا، تو ہم اس جنگ میں کیوں جائیں؟ 1980 کی دہائی میں یہ تاثر بن گیا کہ ہم امریکا کے اتحادی ہیں، سویت یونین کے خلاف ہیں، یہاں قبائلی علاقوں میں جنگ ہوئی۔ سوویت افغان کے جنگ کے اختتام پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جو امریکا سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ہمارا اتحادی ہے وہ یہاں سے جانے کے بعد ہم پر پابندیاں لگادیتا ہے۔پاکستان کا قبائلی علاقے میں جرائم نہیں ہوتھے تھے، لیکن 9/11 کے بعد کی صورتحال سے متعلق نہیں بتا سکتا کہ ان لوگوں پر کیا گزری دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں شورش کے دوران جو لوگ بچ گئے وہ معذور ہوگئے۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دیا، کیا کبھی کسی نے ہم سے کہا کہ ’شاباش پاکستان‘۔؟
وزیر اعظم نے کہا کہ مدارس پر ڈرون حملے ہوئے، بچے مارے گئے، شادیوں کی تقریبات پر بھی ڈرون حملے ہوئے۔ امریکا کے خلاف بولنے سے ہمارے سیاست دان ڈرتے ہیں، کہیں امریکا ناراض نہ ہوجائے۔جب حکومت ملی تو پہلے دن کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان کے لوگوں کے لیے ہو، کسی کے خلاف نہ ہو۔ بھارت کے خلاف اس وقت بات کی جب انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5 اگست کا اقدام کیا۔
اپنے خطاب خطے دوران عمران خان یہ نام لے لیا کہ ’ہمیں 8 مارچ کو امریکا سے خط آیا‘ وزیراعظم نے اتنے الفاظ ہی کہے تھے کہ انہیں غلطی کا احساس ہوا اور واپس کہا کہ ’ایک ملک سے خط موصول ہوا۔‘انکا کہنا تھا کہ اگر عمران خان عدم اعتماد میں ہار جاتا ہے تو پھر ہم پاکستان کو معاف کردیں گے، لیکن اگر یہ تحریک ناکام ہوتی ہے تو پاکستان کو برے وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو تین لوگ انہیں پسند آئے اس کی کیا وجہ ہے؟ پرویز مشرف کے دور میں 11 ڈرون حملے ہوئے، لیکن ان دونوں کی 400 سے زائد حملے ہوئے لیکن ان کا ایک مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔اگر میرے آرمی چیف کو کوئی برا بھلا کہے اور مجھے اچھا کہے تو میں کیسے چپ رہوں؟ مودی نواز شریف کے گھر شادیوں میں آرہا تھا جبکہ جنرل راحیل شریف کو برا بھلا کہ رہا تھا۔ہم امن میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنگ میں آپ کے ساتھ نہیں ہیں، جب خارجہ پالیسی آزاد ہو تو آپ ثالث کا کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پوچھو کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ انہیں پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا، کبھی ان سے متعلق کسی نے کوئی بات کی؟ شہباز شریف نے کہا کہ ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ نہیں کہنا تھا، آپ نے کیا کیا ہے؟ آپ کا تو اقتدار میں آنے کا مقصد ہی کچھ اور ہے۔ اس اتوار کو ملک کا فیصلہ ہونے جارہا ہے، کیا وہ گزرا زمانہ، کرپٹ لوگ ہوں گے؟ جن پر نیب پر کرپشن کے کیسز ہیں۔ ہمارے انصاف کے نظام میں کرپٹ لوگوں کو پکڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے ملک خراب کردیا، مجھے تو صرف 3 سال ہوئے ہیں، 30 سال سے تو آپ باریاں لے رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ تین سال میں ہوا؟میں چیلنج کرتا ہوں کہ جتنا کام اس حکومت میں ہوا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ مجھے کسی نے کہا کہ آپ استعفیٰ دے دیں، لیکن میں ایسے ہار نہیں مانوں گا، استعفیٰ نہیں دوں گا۔ تحریک عدم اعتماد سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ضمیر کا سودا نہیں ہورہا، بلکہ ملک کی بقا و سالمیت کا سودا ہورہا ہے۔
منحرف اراکین کو وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو نہ معاف کرنا ہے اور نہ آپ کو بھولنا ہے اور نہ جو لوگ آپ کے پیچھے ہیں کو معاف کرے گی۔ جو سوچتا ہے کہ عمران خان چپ کرکے بیٹھ جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا، میں سپورٹس مین ہوں، مجھے مقابلہ کرنا آتا ہے، میں کسی صورت اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں