معاشی بحران ،سری لنکا کی پارلیمنٹ 8 فروری تک معطل

Spread the love
سری لنکن پارلیمان، فائل فوٹو

کولمبو ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایک آدھا رکن پارلیمنٹ نہیں بلکہ پوری کی پوری پارلیمنٹ ہی معطل کر دی گئی ۔ جی ہاں ! ایسا سری لنکا میں ہوا ہے ۔لیکن ایسا کیوں ہوا ہے آئیے اس کی تفصیلات آپ کو بتاتے ہیں ۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ سری لنکا دیوالیہ ہوچکا ہے اور ملک کا کُل غیر ملکی قرضہ 51 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ اور اب سری لنکن صدر رانیل وکرم سنگھے نے 8 فروری تک پارلیمنٹ کو معطل کر دیا، اقلیتی تامل برادری کو اقتدار میں شراکت دار بنانے کی پالیسی تیار کرلی گئی۔صدر وکرما سنگھے متعدد معاملات پر طویل مدتی پالیسیز کا اعلان کریں گے، تب تک کیلئے پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔طویل مدتی پالیسیز میں مہینوں سے جاری غیر معمولی معاشی بحران کے متعلق بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔صدر وکرما سنگھے نے غیر معموملی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے گزشتہ روز پارلیمنٹ کو معطل کیا۔

حکومت نے اس اقدام کی واضح وجہ بیان نہیں کی لیکن صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وکرما سنگھے 8 فروری کو نئی پالیسیز اور قوانین کا اعلان کریں گے جو 2048 میں سری لنکا کی صد سالہ یوم آزادی تک نافذ العمل رہیں گے۔پارلیمان کی معطلی کے دوران اسپیکر اپنا کام جاری رکھیں گے جبکہ قانون ساز اپنی نشستوں پر برقرار رہیں گے لیکن کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جائے گا۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ سری لنکن صدر اقلیتی تامل کمیونٹی کو اقتدار میں شراکت دار بنانے کی پالیسی بنائیں۔

%d bloggers like this: