58

بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں نے ظلم کی انتہا کر دی ، مسلمانوں کا “معاشی قتل ” کرنے کی مہم شروع ، حلال گوشت بیچنے سے روک دیا

Spread the love

لاہور ( طیبہ بخاری سے ) مودی سرکار کے دور میں بھارت میں مسلمانوں پر نت نئے انداز سے مظالم ڈھانے کا سلسلہ جاری ہے ، کبھی مسلمانوں کو ماب لنچنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، کبھی سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے ، کبھی مسلمانوں سے خرید و فروخت کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے ، کبھی خاندانی منصوبہ بندی کی بحث چھیڑی جاتی ہے ، کبھی لو جہاد تو کبھی حجاب پر جھگڑا کیا جاتا ہے . اب انتہا پسندوں نے مسلمانوں کا معاشی قتل کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا گیا

ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے خود بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک میں انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمان قصابوں سے گوشت خریدنے کے خلاف مہم کا آغاز کیا گیا ہے، اس سلسلے میں انتہا پسند مارکیٹ کی ہر دکان پر جا کر پمفلٹ تقسیم کر رہے ہیں جس پر مسلمان قصابوں سے حلال گوشت نہ خریدنے کی ہدایات درج ہیں۔ان کی جانب سے مسلمان قصابوں کی دکان پر حملوں اور تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے ، خود کوپارٹی کارکنان کہنے والے انتہا پسند دہشتگرد ہندو مسلمانوں کو حلال گوشت بیچنے سے روک رہے ہیں اور حرام گوشت کی فروخت پر زور دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا

پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے حلال گوشت کی فروخت روکنے سے متعلق مہم کا آغاز اور مسلمانوں کے خلاف “معاشی جہاد” کا اعلان کیا گیا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے عہدیداروں کا اس مہم کے حوالے سے کہنا ہے کہ جب مسلمان ہندوؤں سے گوشت نہیں خریدتے تو ہندو مسلمانوں سے کیوں گوشت خرید رہے ہیں، اگر مسلمان حرام گوشت کھانے پر راضی ہوتے ہیں تو ہم بھی حلال گوشت کا استعمال شروع کر دیں گے۔لیکن تب تک ہم حلال گوشت بیچنے نہیں دیں گے .
گاندھی جی کے سیکولر بھارت میں یہ کیا ہو رہا ہے ، ہے کوئی اس کا جواب دینے والا ، انتہا پسندی نے پورے بھارت کی شکل بگاڑ کر رکھ دی ہے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں