106

کوئی عدالت یا جرگہ شرعی وراثتی جائیداد کی تقسیم کا قانون نہیں بدل سکتا: جسٹس فائز عیسیٰ

اسلام آباد ( وی او پی نیوز )سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک کیس کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں .سوات میں وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جرگے کا فیصلہ دینِ الٰہی سے بڑا نہیں ہو سکتا۔وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی عدالت یا جرگہ شرعی وراثتی جائیداد کی تقسیم کا قانون نہیں بدل سکتا، جائیداد کی تقسیم کی دستاویزات پر 7 سالہ بچے کے انگوٹھے کا نشان لگایا گیا، 7 سالہ بچے کو تو قتل کیس میں پھانسی بھی

نہیں ہو سکتی۔ ایسی دستاویزات کے ذریعے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، پاکستان میں سچ بولنے کے کیا حالات ہیں، سب کو علم ہے۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت علاقائی زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جہاں کے زمینی حقائق کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں تو عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ سعودی عرب میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ 1 دن میں ہوتا ہے، پاکستان میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ہوتے ہوتے 40 سال لگ جاتے ہیں، جائیداد کی تقسیم کا شرعی اصول ساڑھے 14 سو سال پہلے طے ہو چکا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالتِ عظمیٰ نے سوات کے حبیب اللّٰہ مرحوم کی جائیداد تمام قانونی ورثاء میں شرعی اصول کے تحت تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔سوات سے تعلق رکھنے والے حبیب اللّٰہ کی جائیداد کی برابر کی تقسیم کے لیےجرگے کے فیصلے کا گواہ 8 سال کے بچے کو بنایا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں