55

لانگ کووڈ سے متعلق ایک اور انکشاف،خواتین کو خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ

طیبہ بخاری
کورونا نے ابھی تک انسانوں کا پیچھا نہیں چھوڑا ، یہ وائرس پلٹ پلت کر وار کر رہا ہے اور انسان اس وار سے بچنے کی بجائے بد احتیاطی سے کام لے رہے ہیں اگر ہم سب ویکسین لگوا لیں، ماسک کا بقاعدہ استعمال کریں اور سماجی فاصلہ ہر حال میں بنائے رکھیں تو بہت جلد اس موذی وبائ سے چھٹکار احاصل کیا جا سکتا ہے. اب ماہرین نے لانگ کوڈ سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے. امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کا تسلسل کم از کم ایک سال تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث ان کی کام کرنے کی صلاحیت، جسمانی سرگرمیوں میں شرکت، دوسروں سے بات چیت، دماغی افعال اور زندگی

کے مجموعی معیار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم کے ماہرین نے پہلی مرتبہ لانگ کووڈ کے مریضوں پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی اور ایسے عناصر کی تفصیلات بیان کیں جن کی وجہ سے علامات کی شدت بڑھ سکتی ہے۔تحقیق میں مارچ دو ہزار بیس سے مارچ دو ہزار اکیس کے دوران ماؤنٹ سینائی کے پوسٹ کووڈ کیئر سینٹر میں زیر علاج رہنے والے 156 مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا، ان مریضوں نے کرونا کا سامنا کیا تھا اور تحقیق کے وقت تک ویکسینیشن نہیں کرائی تھی۔ان افراد سے بیماری کے پہلے دن سے لے کر 351 دن بعد تک علامات کے تسلسل اور ان کی شدت بڑھانے والے عناصر سے متعلق سرویز فارم بھروائے گئے، انہیں کہا گیا کہ وہ تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، معتدل اور سخت جسمانی سرگرمیوں کو مکمل کرنے کی اہلیت، دماغی افعال، معیار زندگی سے جڑی صحت، انزائٹی، ڈپریشن، معذوری اور کووڈ سے قبل اور بعد میں ملازمت کی حیثیت کی تمام تر تفصیلات بیان کریں۔سب

سے زیادہ عام علامت تھکاوٹ تھی جس کا سامنا 82 فیصد مریضوں کو ہوا، جس کے بعد دماغی دھند (67 فیصد)، سردرد (60 فیصد)، نیند متاثر ہونے (59 فیصد) اور سر چکرانے (54 فیصد) قابل ذکر تھیں۔محققین نے دماغی تنزلی کی رپورٹ کی شدت کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا اور دریافت ہوا کہ 60 فیصد سے زیادہ لانگ کووڈ کے مریضوں کے دماغی افعال میں کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں، جیسے مختصر مدت کی یادداشت کمزور ہوئی، ناموں

کو یاد رکھنے میں مشکلات، فیصلہ سازی اور روزمرہ کی منصوبہ بندی کے مسائل کا سامنا ہوا۔135 افراد نے کووڈ سے قبل اور بعد میں ملازمت کے حوالے سے سوالات کے جواب دیئے اور دریافت ہوا کہ کووڈ سے قبل 102 افراد کل وقتی ملازمت کررہے تھے مگر بیماری کے بعد یہ تعداد 55 رہ گئی۔مزید گہرائی میں جانے پر ماہرین نے ان ممکنہ عناصر کو شناخت کیا جو لانگ کووڈ کی علامات کی شدت بدتر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ان میں سب سے بڑا عنصر جسمانی سرگرمیوں کی سطح گھٹ جانا تھا جس کو 86 فیصد مریضوں نے رپورٹ کیا جس کے بعد تناؤ (69 فیصد)، ڈی ہائیڈریشن (49 فیصد) اور موسمیاتی تبدیلیاں (37 فیصد) قابل ذکر ہیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف فزیکل اینڈ ری ہیبیلیٹشن میڈیسین میں شائع ہوئے۔

یہاں‌ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ کووڈ 19 کی شرح مردوں اور خواتین میں یکساں پائی جاتی ہے مگر حال ہی میں ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ لانگ کووڈ کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ ہوتا ہے۔بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ خواتین میں کووڈ 19 کی طویل المعیاد علامات کا امکان مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔نیشنل سینٹر فار گلوبل ہیلتھ اینڈ میڈیسن کی اس تحقیق میں بیماری کو شکست دینے کے بعد طویل المعیاد علامات یا لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے افراد کے بارے میں جاننے کے لیے سروے کیا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین میں بیماری سے ریکوری کے بعد کووڈ کی طویل المعیاد علامات جیسے تھکاوٹ اور سونگھنے یا چکھنے کی حسوں کے مسائل کا امکان مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق خواتین کو مردوں کے مقابلے میں طویل المعیاد بنیادوں

پر تھکاوٹ کا تجربہ دگنا جبکہ بالوں کے گرنے کا سامنا 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں فروری 2020 سے مارچ 2021 کے دوران کووڈ 19 کو شکست دینے والے مریضوں سے سروے کیا گیا جس میں 457 افراد نے اپنی رائے دی۔سروے میں مختلف سوالات پوچھے گئے جیسے بیماری کی ابتدائی علامات اور ریکوری کے بعد طویل المعیاد علامات وغیرہ۔جب محققین نے ڈیٹا کا موازنہ کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ خواتین میں چکھنے کی حس سے متعلق مسائل کا امکان 60 فیصد جبکہ سونگھے کے مسائل کا امکان 90 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ سونگھنے اور چکھنے کی حسوں کے مسائل جوان افراد یا دبلے پتلے افراد میں زیادہ نظر آتے ہیں۔تحقیق کے مطابق 120 افراد یا 26 فیصد کو کووڈ کو شکست دینے کے بعد مختلف علامات کا سامنا 6 ماہ بعد بھی ہورہا تھا جبکہ 40 یا 9 فیصد میں لانگ کووڈ کا مسئلہ ایک سال بعد بھی موجود تھا۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت سے متاثر کچھ مریضوں کو بھی طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوا۔محققین نے بتایا کہ مرد، بزرگوں اور موٹاپے کے شکار افراد میں بیماری کے ابتدائی مرحلے میں علامات کی شدت سنگین ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے مگر بیماری کے مابعد اثرات جیسے چکھنے کے مسائل سے محرومی کا خطرہ بالکل مختلف گروپس میں زیادہ ہوتا ہے، مگر اب تک لانگ کووڈ کی وجوہات معلوم نہیں۔
ان دونوں تحقیقی رپورٹس کے معائینے کے بعد اب آپ پہ واضح ہو چکا ہو گا کہ حالات کن خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں اور کووڈ سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کیوں ضروری ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں