4

پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے بلین ڈالرز باہر گئے

لندن (ویب ڈیسک) پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں معیشت بہتر ہورہی ہے ۔ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے11بلین ڈالر باہر گئے، ان میں سے بڑا حصہ متحدہ عرب امارات اور برطانیہ آیا۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے اقدامات کے سبب پاکستان میں اب امپورٹ کم ہورہی ہے اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے۔ زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور استحکام آرہا ہے۔ ڈالر کی قیمت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نے خصوصی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کم رکھنے کی خاطر6سے7ارب ڈالر خرچ کردیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ معیشت میں استحکام آرہا ہے اور وزیر خزانہ اپنی تمام توانائیاں پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے خرچ کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ26ممالک میں پاکستان سے غیرقانونی طریقے سے پیسہ گیا، بڑا حصہ امارات اور برطانیہ آیا، ہم ہنڈی اور حوالہ کے حوالے سے سختی کررہے ہیں، ہم نے برطانوی پارلیمنٹرین سے بھی درخواست کی ہے کہ غیر

قانونی پیسے سے ہونے والی سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائیں کیونکہ ہمیں اس ضمن میں بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کو جلد پاکستان لے کر جائیں گے۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سویلین خصوصاً خواتین پر بھارتی مظالم کے حوالے سے تشویش ہے اور وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ دنوں بھارتی صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ بھارت کو کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلنی چاہیے اور وہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوراً بند ہونی چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میںفواہد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کی برطرفیاں قابل افسوس ہیں اور ہم نے تقریباً 50کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کو پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے آگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انڈسٹری کو چلانے کی ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔ ابھی گیس کی قیمتیں بڑھیں لیکن ان کا اطلاق ایکسپورٹ انڈسٹری پر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جلد 200نئی ٹیکسٹائل ملز لگیں گی جن سے ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے اور ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شدت پسندی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے، تحریک لبیک کے رہنماﺅں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں