8

بچا واپنے نظریے کو کہ یہ ضم ہو رہا ہے

تحریر: ایمن احمد
پچھلے بیس سالوں سے وطن عزیز کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اب اس قدر بڑھ چکے ہیںکہ ان پر قابو پانا از حد مشکل ہوتا جا رہا ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یہ مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ خیر یہ سب باتیں تو اپنی جگہ پر ہیںلیکن پچھلے دس سالوں سے ملک کی اساس کوجو ٹھیس پہنچ رہی ہے وہ الحفیظ الاماں۔ہم نے ۷۱ سال پہلے لا الٰہ الا اللہ کے نام پر پاکستان حاصل کیا تھا۔ ہم اپنے آباءکی قربانیوں کا قرض نہیں چکا سکتے مگر ہمیں ان کا اعتراف ضرور ہے۔ نظریہءپاکستان دنیا کے تمام نظریات میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ وہ واحد نظریہ ہے جس کی جڑ لا الٰہ الا اللہ ہے۔ ےہ وہ واحد نظریہ ہے جو آج بھی قائم ہے۔ دنیا میں پاکستان کی طرح پاکستان سے پہلے بھی اور پاکستان کے بعد بھی بہت ساری ریاستیں معرض وجود میں آئیں۔ لیکن یہ رےاستیں جن نظریات کی بنا پر معرض وجود میں آئیں وہ عارضی تھے۔ جو بس وقتی طور پر اختلافات کی وجہ بنے اور پھر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ لیکن نظریہ پاکستان وہ واحد نظریہ ہے جو آج تک پوری دنیا میں پاکستان اور اہل پاکستان کی پہچان ہے۔ یہ نظریہ پچھلی اڑھائی صدیوں سے قائم ہے اور اس نظریے کے بانیوں کے نام آج تک زندہ ہیں۔
لیکن ۱۱۹ کے واقعے کے بعد نظریہءپاکستان کو جو چوٹیں لگیںوہ اب گہرے زخموں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔لال مسجد کے واقعے کے بعد جب ملک میں سیکولر ازم اور روشن خیالی نے جنم لیا تو اب یہ زخم ناسور بنتے جا رہے ہیں۔اس نظریے کی بقا کی خاطر ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیںاور یہ سرزمین بھی آج نظریہ ءپاکستان کی وجہ سے قائم ہے۔ شاید اللہ کو یہی بات پسند ہے کہ مملکت خداداد کی اساس لا الٰہ الا اللہ ہے جو آج تک ان گنت مسائل کے حصا ر میں بھی یہ ملک قائم و دائم ہے۔ مگر اب حالات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی تما م ترسازشیںمکمل ہو چکی ہیں۔ بظاہرپاکستان پرویسے حالات مسلط نہیں کیے جا رہے جیسے عراق،مصر،فلسطین اور شام پر کیے گئے۔ کیوں کہ یہ بات ساری دنیا سمیت تمام بیرونی قوتوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کا وجود نظریہءپاکستان کی بقا کے ساتھ ہے۔ جس دن یہ نظریہ ضم ہو گیا، اس دن پاکستان فنا ہو گیا۔

پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں پر نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ پاکستان کی آبادی کے کل حصے کا 60%نوجوانوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی قوم کا سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔تحریک پاکستان اورنظریہ پاکستان کی حمایت کرنے والوں میں سے ایک خاطر خواہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ جس طرح ایک نوجوان اپنے عمل اور کردار سے دنیا کو متاثر کر سکتا ہے اس طرح کوئی بھی نہیںکر سکتا لیکن آج اس پاک سر زمین کی زرخیز مٹی سے پھوٹنے والے پودے جب تنا ور درخت بنے تواپنی شاخوں کو طاغوت کے جال میں الجھا بیٹھے۔
بہر حال میرا ٓج کا موضوع اسی بات کا عکاس ہے کہ ہمارا نظریہ خطرے میں ہے۔ ہم اس بات سے غافل ہیں کہ ہم کفریہ نظریات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ےہ تو ملکی صورتحال کا ایک سرسری سا جائزہ ہو گیا۔ دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ پارلیمینٹ میں اسرئیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔انتہائی بے بنیاد دلائل پیش کر کے اسرائیل کو بحیثیت ریاست تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر موجودہ حکومت کا ایجنڈا ہے کہ مملکت خداداد کو ریاست مدینہ کے اصول اور قوانین کے مطابق ڈھالا جائے گا تو پھر ریاست مدینہ کے بعد لا الٰہ الا اللہ کے نام پر قائم ہونے والی دوسری ریاست میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کرنے کی باتیں کیوں؟ جب کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر مسلمانوں سے کہہ دیا ہے” اے ایمان والو! تم ےہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناﺅ یہ تو ٓپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گاوہ بلاشبہ انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہر گز راہ راست نہیں دکھاتا“۔(سورة المائدہ:۵۱)
یقینا یہود و نصاریٰ سے دوستی کی راہیں ہموار ہوں گی تو ان کے عقائد،نظریات اور ان کی تہذیب و تمدن

ملک میں عام رواج پائے گی جو کہ بالکل اب بھی گڑ میں زہر کی طرح ملا کر خاموش قاتل کی طرح ہمارے اندر سرائیت کر رہا ہے۔ اس طرح بس یہ ہو گاکہ ان کے نظریات اور عقائد کے حامل لوگوں کواپنے مقاصدحاصل کرنے میں دشواری نہ پیش آئے گی۔
اس دو رنگی کے سائے سے تو اللہ بچائے
رابطہ اسلام سے ہے،کفر سے بھی یاری ہے
اس کے علاوہ پردے کی اوٹ میںچھپ کردیکھنے والے دشمن کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ملک میں فرقہ واریت اور خانہ جنگی کو ہوا دی جائے اور جنگل میں بھڑکنے والی آگ کی طرح پھیلایا جائے تاکہ نظریہءپاکستان کو کسی گہری کھائی میں دفن کیا جا سکے۔اس کے لیے تعصب انگیز عناصر ملک میں ہرطرف اور ہر طرح سے رائج کر رہے ہیں۔پھر اس تمام صورتحال میں میڈیا کیا کردار ادا کر رہا ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے ۔آج پوری دنیا میڈیا وار کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے۔ نظریہ ءپاکستان کو ضم کرنے کی رہی سہی کسر میڈیا پر چلنے والے ڈرامے،فلمیں اور مارننگ شوز پوری کر رہے ہیں۔ ان سب میں جو کچھ چلتا ہے،میرا خیال ہے کہ وہ وضاحت کے مطلوب نہیں۔
میرے محترم قارئین! ذرا سوچیے، جو قائد اعظمؒ ہمیں اتحاد،ایمان اور تنظیم کا اصول عمل دے کر گئے ، جواسلاف اسلام کے انہی دشمنو ں کے شکنجے سے ٓزاد ہونے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا گئے، اپنے خون سے اس پاک سرزمین کو سیراب کر گئے! کیا ےہ سب ان قائد اعظم اور ان اسلاف کی روحوں کے ساتھ مذاق نہیں؟ کیا یہ ان کی قربانیوں کی تضحیک نہیں؟اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں اپنے نظریے کو بچانا کس طرح ہے؟ آغاز میں میں نے بات کی ہے کہ کسی بھی قوم کا سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ اول تو ےہ کہ ہمیں ایک بار پھر اپنے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم دینا ہے،ایک بار پھر انہیںعزم و استقلال کا درس دینا ہے۔
دوم یہ کہ ہمیں ایک بات ہر صورت ذہن نشین کرنی ہے کہ ہم وہابی،سنی،شیعہ ،بریلوی اور پنجابی،سندھی،بلوچی اور پٹھان سے قطعی بالا تر ہو کر صرف مسلمان اور پھر پاکستانی ہیں۔ یہی ہماری پہچان ہے، ہمارا اعزاز اور ہمارا سب سے بڑا سرٹیفکیٹ ہے۔ تیسرا یہ کہ ہمیں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ہے۔ اس لیے کہ نجات کا واحد راستہ یہی ہے۔ اسی سلسلے میں قائد اعظم کا یہ قول ےاد رکھیے کہ،” وہ کو ن سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔ وہ رشتہ، وہ چٹان،وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے، قرآن مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا،ایک کتاب، ایک رسول،ایک امت۔“(۶،دسمبر،۱۹۴۳ کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے۳۱ ویں اجلاس سے خطاب)
( نوٹ: وائس آف پریس کا مضمون نگار کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ) ُٓ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں