132

ڈٹ جاؤ حسینّ کے انکار کی طرح ….

Spread the love

تحریر: مرید کاظم جعفری ،منڈی بہاﺅالدین
چودہ سو سال قبل نواسہ ِرسول جگر گوشہ بتولؑ سید شہداءحضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت کے انکار کے بعد خانوادہ عصمت وطہارت و رسالت کو ساتھ لئے مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہونے کا قصد کیا،مکہ پہنچنے پہ آپؓ کا والہانہ استقبال کیا گیا ۔آپؓ حج کے لئے احرام باندھے خانہ خدا کے طواف میں مصروف تھے کہ اطلاع ملی کہ کعبہ میں حاجیوں کے روپ میں یزید کے سپاہی آپؓ کو قتل کرنے کی نیت سے پہنچ گئے ہیں۔ امام مظلومؓ نے خانہ کعبہ کے تقدس واحترام میں کہ میرا خون یہاں نہ بہایا جائے عمرہ کی نیت کر کے احرام توڑ دیا اور اپنے والد بزرگوار کے سابق دارالخلافہ کوفہ سے آئے ہزاروں خطوط کہ ہم آپؑ کے والد کی طرح آپکی بیعت کرنا چاہتے ہیں کوفہ تشریف لائیں اتمام حجت کرتے اپنے اہل وعیال اور اصحاب سمیت مکہ سے کوفہ روانہ ہو گئے جب اس بات کی خبر یزید کو پہنچی تو اس نے فوراً کوفہ کے گورنر کو معزول کر کے عبیداللہ ابن زیاد کو والی کوفہ کے احکامات جاری کر دئیے۔ ابن زیاد نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام سے پہلے کوفہ پہنچنے کی تیاری کی اور کوفہ پہنچ کر کوفہ کے دارالامارہ میں کرسی اقتدار پہ براجمان ہو گیا ان دنوں سفیر حسین ؑ حضرت مسلم بن عقیلؑ اپنے 2معصوم بچوں محمد و ابراھیم کے ہمراہ کوفہ پہنچ چکے تھے ، اہل کوفہ امام کو

بھیجے جانے والے خطوط کے مطابق مسلم بن عقیل ؑکے ہاتھ پہ بیعت کر چکے تھے۔ ابن زیاد نے کوفہ پہنچتے ہی حضرت مسلم ؑکو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ، حضرت مسلم ؑکو مہمان ٹھہرانے والے معززین و شرفائے کوفہ کو گرفتار کر کے قتل کیا اور ان کے جسد خاکی کوفہ کے چوک میں لٹکا دئیے ۔ایسے ظالمانہ اقدامات پہ کوفہ میں دہشت پھیل گئی لوگوں گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے، حضرت مسلم ؑکوفہ کے بند دروازوں کے سبب ایک گھر کے باہر تشریف فرما تھے کہ اہلبیتؑ کی منتا دار طواہ نامی بڑھیا انہیں اپنے گھر کے اندر لے گئی ، اس دوران اس کا بیٹا جو یزید کی فوج کے سپہ سالار محمد ابن اشعث کا غلام تھا آگیا جب اس نے امیرمسلم ؑکو اپنے گھر پایا تو وہ انعام کے لالچ میں اپنے مالک کے پاس پہنچا اور کہا کہ جس کی تلاش میں تم مارے مارے پھر رہے ہو وہ قاصد حسین ؑہمارے گھر موجود ہے۔بھاری کمک کے ہمراہ تیرو ترکش نیزے کمان و بھالوں سے مزین مائی طواءکے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔ ہاشمی خاندان کے کڑیل جوان نے خوب جہاد کیا کیا مزید کمک منگوائی گئی آخر کار پیچھے گڑھا کھود کے مکاری سے حضرت مسلم ؑ کو اس میں گرایا گیا پھر گرفتار کر کے ابن زیاد کے حکم پہ دارالامارہ کی چھت پہ لے جا کر سر تن سے جدا کیا گیا اور دھڑ بلندی سے زمین پہ گرا دیا گیا۔ اور پھر جہاں ہانی بن عروہ جیسے بااثر افراد کا جسد خاکی چوک چوراہوں میں لٹکایا گیا وہاں سفیر حسینؑ حضرت امیر مسلم بن عقیل بن ابو طالبؑ کا دھڑ لٹکا دیا گیا، ان کے دونوں بیٹوں کا سر قلم بھی کر دیا گیا ۔کوفہ کے حالات پر قابو پانے کے بعد عبیداللہ ابن زیاد کو یزید کا پیغام موصول ہوا کہ فوراً امام حسینؑ سے بیعت لی جائے انکار پہ قتل کر دو بچ جانے والوں کو قیدی بنا کے میرے پاس شام لے کر آؤ۔ جس پر ابن زیاد نے عمر ابن سعد، شمر ابن ذلجوشن اور حر کو حکم دیا کہ مکہ سے کوفہ آتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے قافلہ کو راستہ میں ہی روک کر یزید کی بیعت مانگو اور انکار پہ قتل کر دو ۔

لاکھوں گھڑ سوار اورپیدل فوجی ہر قسم کے اسلحہ سے لیس امامؑ اور ان کے ساتھیوں کو کوفہ سے باہر روکنے کے لئے روانہ ہوئے کہ نینوا کے مقام پہ دونوں فریقین کا سامنا ہوا۔ امام حسین ؑکے کاروان کے گرد گھیرا ڈال لیا گیا ،عمر سعد اور امامؑ کے درمیان بحث تکرار ہوئی یہاں تک کہ یزیدی لشکر کے سپہ سالار حر نے امامؑ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر جارحانہ انداز میں گستاخی کی۔ امامؑ کو کوفہ کی بجائے کسی دوسری جانب جانے سے بھی روک دیا گیا 10 روز تک بحث و مباحثہ اور بیعت کا مطالبہ کیا جاتا رہا جس پر امام حسین ؑ نے کہا کہ” مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“ اس دوران یزیدی لشکر کے سپہ سالار حر نے یزید کی فوج سے امام حسین ؑکی فوج میں شمولیت اختیار کر لی یزیدیوں نے اپنی فوج کی بغاوت کے ڈر سے طبل جنگ بجا دیا۔ 10 روز تک لاکھوں کی فوج امامؑ کے ساتھیوں پہ اس لئے حملہ کرنے میں ناکام رہی کہ وہ جانتے تھے کہ امام ؑرسول خدا کے نواسے،سیدہ فاطمہ زھرہ سلام اللہ کے لخت جگر، مولا علی ؑشیر خدا کے بیٹے ہیں کیسے ان کا ناحق خون بہایا جائے۔ یزیدی لشکر کا امام ؑکے ساتھ نرم برتاؤ بھانپتے ہوئے شمر بن ذلجوشن نے کوفہ پہنچ کر عمر ابن سعد کوشکایت کی جس پر ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو شمر کے ہاتھ خط بجھوایا کہ اگر تو نے بیعت کے انکار پر امام حسین ؑ کا سر قلم نہ کیا تو شمر تجھے قتل کر کے خود فوج کی کمان سنبھالے گا اور بصرہ رائے کی بادشاہی بھی تمہاری بجائے شمر کو دے دی جائے گی جس کے نتیجے میں10 محرم الحرام کو جنگ کا باقاعدہ میدان سج گیا امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا اور خاندان نبوت و خانوادہ عصمت وطہارت کو زنجیروں میں جکڑے کوفہ سے شام 36 بازاروں سے بے ردا گذارا گیا اور دربار شام یزید کے سامنے پیش کیا گیا ۔شہدائے کربلا کے سر نیزوں پہ بلند کرتے بازاروں میں شور مچایا گیا باغی باغی کے نعروں کی گونج میں اینٹوں پتھروں سے اہلبیت اطہارؑ کو لہو لہان کیا گیا ۔یزید نے امام مظلوم کربلا سید شہداءؑکے سر مبارک کی بے حرمتی کی اور شام میں جنگ جیتنے کا جشن منایا ،شام کے گلی محلوں چوک چوراہوں کو سجایا گیا۔

حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہانے ایسا خطبہ دیا کہ دربار یزید کی بنیادیں ہلا کے رکھ دیں انداز خطاب سنتے ایک اندھے ضعیف العمر صحابی رسول بول اٹھے کہ یہ آواز تو حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی ہے، بتایا گیا کہ یہ ان کی بیٹی حضرت بی بی زینب سلام اللہ ہیں۔ یزید نے متکبرانہ انداز میں پوچھا ۔کہاں ہے عباس؟ کہاں ہے علی؟ کہاں ہے حسین؟ آج میں نے تم سے جنگ احد کا بدلہ لے لیا آج میں اپنے آباؤ اجداد کے سامنے سرخرو ہوا ۔جس پر زنجیروں میں جکڑے بیمار کربلا وقت کے امام سید ساجدین امام زین العابدینؓ نے گلے میں پڑے طوق کو جولان دیتے انگڑائی لی اور فصیح و بلیغ خطبہ دیا اور کہا کہ” جو ابھی اذان دی گئی ہے اس میں میرے نانا حضرت محمد رسول اللہ کا نام لیا گیا ہے تیرے نانا کا نہیں ۔حسینؑ سر کٹوا کے بھی زندہ ہے تو تخت پہ بیٹھے بھی مردہ ہے“۔
وقت گزرتا گیا حتیٰ کہ کوفہ کا والی امیر مختار ثقفی بن گیا اس نے قاتلان حسینؑ کی لسٹ تیار کروائی اور پھر عمر سعد، ابن زیاد، شمر،خولی،حرملہ،اور شہدائے کربلا کے قاتلوں کو چن چن کے قتل کیا ۔واقعہ کربلا کے بعد ظالم اور مظلوم دو نظریات اخذ ہوئے جو مظلوم کا ساتھ دے وہ حسینی جو ظالم کا ساتھ دے وہ یزیدی۔ اور یہ دونوں نظریات تا دم قیامت پروان چڑھتے رہیں گے حق و باطل کی جنگ جاری رہے گی اور جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو پھر وقت کے بارہویں امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو گا باطل مٹ جائے گا اور حق چھا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں