تحریر: سبطین ضیا رضوی
اقوام متحدہ نے یکم اکتوبر کو بزرگ شہریوں کا عالمی دن مقرر کرنے کا فیصلہ 14 دسمبر 1990 کو ایک قرارداد کے ذریعے کیا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ بزرگ افراد کے حقوق کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جائےان کی معاشرتی شمولیت، عزت، وقار اور فلاح کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ معاشرے کو یہ یاد دلایا جائے کہ بزرگ افراد تجربے، علم اور قربانیوں کا خزانہ ہوتے ہیں۔ حکومتوں اور اداروں کو ترغیب دی جائے کہ وہ بزرگ شہریوں کے لیے سماجی تحفظ، صحت، اور سہولتوں کو بہتر بنائیں۔
اس دن دنیا بھر میں سیمینارز، ورکشاپس، اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔بزرگوں کی خدمات کو سراہا جاتا ہے ان کے مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے تاکہ پالیسی سازوں کو رہنمائی ملے۔اسلامی تعلیمات بھی بزرگوں کے احترام کو اللہ کی تعظیم کے مترادف قرار دیتی ہیں، اور یہی جذبہ اس دن کی روح میں شامل ہے۔ہر سال یہ دن اک خاص تھیم کے تحت منایا جاتا ہے۔جیسے پچھلے سال 2024 کا تھیم تھا’’عمر بڑھنے کے ساتھ وقار: دنیا بھر میں معمر افراد کے لیے نگہداشت اور سپورٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کی اہمیت‘‘2025 میں عالمی یومِ بزرگ شہری(International Day of Older Persons) کے لیے اقوامِ متحدہ نے جو تھیم مقرر کیا ہے، وہ ہے’’Digital Equity for All Ages‘‘ یعنی ’’تمام عمر کے افراد کے لیے ڈیجیٹل مساوات‘‘تھیم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بزرگ افراد کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں مکمل شرکت کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:۔
بزرگ شہریوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا
ان کی ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا
آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کے تحفظ کو یقینی بنانا
ڈیجیٹل دنیا میں عمر کی بنیاد پر امتیازکے خلاف اقدامات کرنا
تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے ملکی سطح ہر اس قسم کی پالیسی مرتب کریں جس کی بدولت مطلوبہ اور مجوزہ مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔اس سلسلے میں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سالانہ بجٹ میں بزرگوں کی فلاح وبہبود کے لیئے مخصوص فنڈز کو مختص کریں تاکہ ان اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔دنیا بھر میں بزرگ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس تھیم کا مقصد یہ ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو بھی اس ترقی میں شامل رکھا جائے تاکہ وہ تنہائی، معلومات کی کمی یا سہولیات سے محرومی کا شکار نہ ہوں۔اور اس عمر میں بھی اپنے معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکیں۔
پاکستان میں اس دن کی اہمیت
بزرگ شہری ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ہماری تاریخ اور ثقافت کے نگہبان ہیں۔ ان سے ہماری تہذین اور روایات جڑی ہیں ۔انہی کی حکمت و دانائی کے سے آج ہمارا معاشرا قائم ہے۔ یہ ہمارے خاندانی نظام کو قائم رکھنے والے ہیں ۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب اور ہر بزرگ ایک روشن ستارہ ہے جن کے دم اور برکت سے ہمارے گھروں کی تمام خوشیاں اور چہل پہل قائم ہے۔یہ بزرگ ہمارے بہترین استاد ہمارے لیئے مشعل راہ اور قیمتی سرمایہ حیات ہیں۔
جدید سائنسی ترقی اور بہترین علاج معالجہ کی سہولیات اور اچھے رہن سہن کی بدولت دنیا بھر میں بزرگ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کےایک حالیہ سروے کے مطابق، 2050 تک دنیا کی آبادی کا تقریباً 16% حصہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہو گا۔اقوامِ متحدہ (UNO) نے بزرگ شہریوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی الگ’’چارٹر‘‘ تو جاری نہیں کیا، لیکن اس نے اقوامِ متحدہ کے اصول برائے بزرگ افراد (United Nations Principles for Older Persons) کے نام سے ایک اہم دستاویز 1991 میں منظور کی تھی، جو ان کے حقوق اور سہولیات کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لیے اقوام متحدہ کے اصولوں پر جزوی طور پر عمل ہو رہا ہے، مگر اس میں بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ اقوام متحدہ نے بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جن اصولوں کا تعین کیا ہے، ان میں آزادی، شرکت، نگہداشت، خودمختاری، اور عزت جیسے بنیادی عناصر شامل ہیں۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے ساتھ کئی ترقیاتی پروگراموں پر دستخط کیے ہیں، جن میں انسانی حقوق اور سماجی تحفظ کو بنیادی حیثیت دی گئی ہےآئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شہری کو قانون کے سامنے مساوی حیثیت دی گئی ہے، جس میں بزرگ افراد بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان میں سماجی تحفظ، صحت، صفائی، اور خوراک جیسے شعبوں میں بزرگ شہریوں کے لیے سہولیات بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔بعض صوبوں میں بزرگ شہریوں کے لیے اولڈ ایج بینیفٹس اور سینئر سٹیزن کارڈز جیسے اقدامات کیے گئے ہیں، مگر یہ سہولیات ہر جگہ یکساں دستیاب نہیں۔
اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق بزرگ افراد کو صحت کی مساوی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر غذائیت، تولیدی صحت، اور صفائی کے شعبوں میں۔ تاہم دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی اور تربیت یافتہ عملے کی عدم دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔
بزرگ شہریوں کی سماجی شرکت کو فروغ دینے کے لیے کوئی جامع قومی پالیسی موجود نہیں، اور اکثر انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق بزرگ افراد کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر یہ حق محدود نظر آتا ہے۔
ثقافتی طور پر پاکستان میں بزرگوں کو عزت دی جاتی ہے، مگر جدید شہری زندگی میں یہ روایت کمزور پڑ رہی ہے، خاص طور پر جب بزرگ افراد مالی یا جسمانی طور پر کمزور ہوں۔اگرچہ اقوام متحدہ کے اصولوں کی روشنی میں کچھ مثبت اقدامات کیے گئے ہیں، پاکستان میں بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید جامع، مربوط اور مساوی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ماحولیاتی بگاڑ نے بزرگ شہریوں کی زندگی کو کئی پہلوؤں سے متاثر کیا ہے۔ چونکہ عمر رسیدہ افراد جسمانی طور پر کمزور اور بیماریوں کے زیادہ شکار ہوتے ہیں، اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں اور آلودگی کے اثرات ان پر زیادہ شدت سے پڑتے ہیں۔ دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر شہروں میں جہاں گاڑیوں اور صنعتوں سے دھواں زیادہ ہوتا ہے۔گرمی کی شدید لہریں (heatwaves) بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کا جسم درجہ حرارت کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کر پاتا۔ سردیوں میں شدید ٹھنڈ سے جوڑوں کا درد، بلڈ پریشر اور دل کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔
صاف پانی کی عدم دستیابی سے بزرگ افراد معدے اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں پینے کے پانی میں آلودگی کی شرح زیادہ ہے، جو بزرگوں کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ شہروں میں ٹریفک اور صنعتی شور بزرگوں کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس سے غذائی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ بزرگ افراد جو محدود آمدنی پر گزارا کرتے ہیں، ان کے لیے متوازن غذا حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سیلاب، بارشیں، اور دیگر قدرتی آفات بزرگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیتی ہیں، خاص طور پر وہ جو تنہا یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔یہ مسائل نہ صرف صحت بلکہ بزرگ شہریوں کی زندگی کے معیار، خودمختاری، اور سماجی شرکت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لیے حکومت نے کئی اہم سہولیات اور مراعات فراہم کی ہیں تاکہ ان کی زندگی کو بہتر، باعزت اور سہل بنایا جا سکے۔
پاکستان میں بزرگ شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ان کی آزادی، شرکت، نگہداشت، خودمختاری، اور عزت کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی، اور سماجی ڈھانچے کی پیچیدگیوں نے بزرگ افراد کو کئی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں