متعلقہ

جمع

ہم لمبی جدوجہد کیلئے تیار ہیں: اسد قیصر

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) اپوزیشن اتحاد تحریک...

 نفرت پھیلانے والوں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا  

لاہور ( ایس ایم ایس ) نفرت پھیلانے والوں ...

مطالعہ کو شعار بنائیں، تنقید سے نہ گھبرائیں، ادب کو شہرت کا زینہ نہیں خدمت سمجھیں

از قلم: یاسمین اختر ریسرچ سکالر (گوجرہ، پاکستان) اردو ادب...

میوزک محض تفریح کا ذریعہ نہیں

Spread the love

تحریر: سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

میوزک انسان کی روح کی غذا ہے، جذبات کی زبان ہے اور تہذیبوں کی پہچان ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں میوزک نے ہر دور میں نہ صرف عوام کے دلوں کو چھوا بلکہ معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کیا۔ میوزک محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک فکری و ثقافتی تحریک کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔ آج جب ہم پاکستان کی میوزک انڈسٹری کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک طرف عظیم ماضی کی جھلک نظر آتی ہے اور دوسری طرف جدید تقاضوں کے مطابق نئی نسل کی محنت اور جستجو سامنے آتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد میوزک کو قومی شناخت کا ایک اہم جزو سمجھا گیا۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز نے تقسیم کے زخم سہنے والے دلوں کو مرہم دیا۔ احمد رشدی، مہدی حسن، ریشماں، نیرہ نور، عالمگیر، غلام علی، استاد امانت علی خان، عابدہ پروین اور نصرت فتح علی خان جیسے نابغہ روزگار فنکاروں نے پاکستان کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ فلمی میوزک کے سنہری دور نے پاکستانی انڈسٹری کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ اُس وقت موسیقی کو فن کے ساتھ ساتھ ایک مقدس امانت سمجھا جاتا تھا اور ہر گیت، ہر دھن میں فنکار کی روح جھلکتی تھی۔
موجودہ دور میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور سوشل میڈیا کے انقلاب نے میوزک کی دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اب کسی گلوکار کو شہرت حاصل کرنے کے لیے بڑی کمپنیوں یا فلمی انڈسٹری پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ یوٹیوب، اسپاٹی فائی، انسٹا ریلز اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے نوجوان فنکاروں کو براہِ راست عوام تک رسائی فراہم کر دی ہے۔ کوک اسٹوڈیو نے پاکستانی موسیقی کو ایک نئی پہچان دی، جہاں کلاسیکل اور فوک میوزک کو جدید ساؤنڈ کے ساتھ جوڑ کر عالمی معیار پر پیش کیا گیا۔
تاہم، اس سب کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہماری انڈسٹری کئی مشکلات کا شکار ہے۔ معیاری ریکارڈنگ اسٹوڈیوز کی کمی، کاپی رائٹ کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا، موسیقی کو صرف تفریحی کاروبار سمجھ لینا اور فنکاروں کی معاشی بدحالی ایسے مسائل ہیں جو آج بھی موجود ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ نئی نسل نے ہار نہیں مانی۔ علی سیٹھی، عاطف اسلم، علی ظفر، قرۃ العین بلوچ، بایوزک بینڈز، اور ان گنت فنکار اپنی آوازوں کے ذریعے ایک نیا کلچر تخلیق کر رہے ہیں۔ وہ روایتی دھنوں کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں اور عالمی موسیقی کے انداز بھی اپنا رہے ہیں۔ نوجوان فنکاروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محدود وسائل کے باوجود غیرمعمولی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ نسل میوزک کو کاروبار کے ساتھ ساتھ ایک تخلیقی خدمت بھی سمجھتی ہے۔
پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے، بشرطیکہ ہم اس شعبے کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے فنکاروں کو سہولتیں فراہم کریں، کاپی رائٹ کے قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے اور میوزک کو محض “شغل” کے بجائے ایک باوقار صنعت سمجھا جائے تو پاکستان عالمی سطح پر دوبارہ اپنی شناخت بنا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کا جذبہ، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی موسیقی مزید ترقی کرے گی۔
پاکستانی میوزک انڈسٹری آج ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف شاندار ماضی کا ورثہ ہے جو ہمیں اپنی پہچان یاد دلاتا ہے اور دوسری طرف حال کی جدوجہد ہے جو مستقبل کی راہیں روشن کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم موسیقی کو اپنی ثقافتی اور فکری شناخت کا حصہ سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کریں۔ کیونکہ میوزک محض سُروں اور دھنوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ قوموں کی روح، تہذیبوں کی دھڑکن اور انسانیت کی سب سے حسین آواز ہے۔
پاکستانی موسیقاروں میں خواجہ خورشید انور، ماسٹر عنایت حسین، رشید عطرے، نثار بزمی، بابا جی اے چشتی، خلیل احمد، سہیل رعنا، ایم اشرف، ناشاد، وزیر افضل، روبن گھوش، مصلح الدین کا کام اور نام نمایاں ہے۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں